’’اجرک والی نمبر پلیٹس مفت فراہم کی جائیں‘‘؛ عدالت میں درخواست
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
سندھ ہائیکورٹ میں اجرک والی نمبر پلیٹس مفت فراہم کرنے کےلیے درخواست کی سماعت 14 جولائی کو ہوگی۔
ہائیکورٹ میں سماجی کارکن فیضان حسین نے نمبر پلیٹس کی تبدیلی کے فیصلے کے خلاف درخواست دائر کی ہے۔ درخواست کی سماعت 14 جولائی کو ہوگی۔
دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ سندھ حکومت کے نمبر پلیٹس کی تبدیلی کے فیصلے سے غریب شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ سندھ حکومت کے نوٹیفکیشن کے مطابق نئی نمبر پلیٹ نہ لگانے والے شہریوں کی گاڑیاں ضبط کرلی جائیں گی۔
دراخواست میں کہا گیا کہ شہریوں نے پرانی نمبر پلیٹس رقم کی ادائیگی کے بعد حاصل کی تھیں۔ حکومت کو نئی ڈیزائن کی نمبر پلیٹ مفت فراہم کرنی چاہئیں۔ پرانی نمبر پلیٹس بھی حکومت کی جاری کردہ ہی ہیں۔ نئی نمبر پلیٹس کی غیر موجودگی پر جرمانے اور ضبطگی کی کوئی وجوہات نہیں۔
درخواست میں شکایت کی گئی کہ موٹر وہیکل اور ٹریفک پولیس نے نئی نمبر پلیٹس کی بنیاد پر کاروبار شروع کردیا ہے۔ نمبر پلیٹ کے حصول کےلیے رقم وصول کی جارہی ہے۔ سرکاری ادارے نئی نمبر پلیٹس کےلیے مہینوں انتظار کرا رہے ہیں۔ ٹریفک پولیس شہریوں کو غیر ضروری طور پر ہراساں کررہی ہے۔
شہریوں کو مفت نئی نمبر پلیٹس جاری کرنے کا حکم دیا جائے۔ شہریوں پر جرمانے اور گاڑیوں کی ضبطگی بند کی جائے۔ درخواست میں سیکرٹری ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ،موٹر وہیکل رجسٹریشن ونگ اور ڈی آئی جی ٹریفک کو فریق بنایا گیا ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان نئی نمبر پلیٹس نمبر پلیٹس کی
پڑھیں:
جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
جرمنی کی وفاقی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ یکم اگست 2026 یا اس کے بعد توسیع کیے جانے والے افغان پاسپورٹس کو جرمنی میں درست سفری دستاویز کے طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
وزارت داخلہ کی ترجمان ایلینا سنگر نے افغانستان انٹرنیشنل کو جاری بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ افغان سفارتی مشنز میں پاسپورٹ کے حصول کے طریقہ کار میں ہونے والی تبدیلیوں، بین الاقوامی قانونی تقاضوں اور بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم (ICAO) کی سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جرمنی کے رہائشی قانون (Residence Act) کی دفعہ 3(1) کے تحت ملک میں داخل ہونے یا رہائش اختیار کرنے والے غیر ملکیوں کے لیے لازم ہے کہ ان کے پاس ایک درست اور تسلیم شدہ پاسپورٹ یا اس کے متبادل منظور شدہ سفری دستاویز موجود ہو۔
وزارت داخلہ نے واضح کیا کہ یکم اگست 2026 سے پہلے توسیع کیے گئے افغان پاسپورٹس اس نئی پالیسی سے متاثر نہیں ہوں گے اور بدستور قابل قبول رہیں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ جرمنی میں اپنے رہائشی اجازت نامے (ریذیڈنس پرمٹ) کی تجدید کے خواہش مند افغان شہریوں کو بھی ایک درست اور تسلیم شدہ سفری دستاویز پیش کرنا ہوگی۔
تاہم جرمنی کے مقامی امیگریشن حکام ہر درخواست کا انفرادی بنیادوں پر جائزہ لیتے رہیں گے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ متعلقہ افغان شہری کے لیے افغان سفارتی مشن سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن اور مناسب ہے یا نہیں۔
اگر متعلقہ اتھارٹی اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ کسی افغان شہری کے لیے افغان سفارت خانے یا قونصل خانے سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن یا مناسب نہیں، تو ایسے فرد کو ٹریول ڈاکیومنٹ فار فارنرز (غیر ملکیوں کے لیے سفری دستاویز) جاری کی جا سکتی ہے۔
جرمن وزارت داخلہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 1951 کے جنیوا ریفیوجی کنونشن کے تحت تسلیم شدہ افغان مہاجرین کو افغان سفارتی مشنز سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ایسے افراد جرمنی کے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے ریفیوجی ٹریول ڈاکیومنٹ حاصل کر سکتے ہیں۔
وزارت کے مطابق اس وقت یہ اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ نئی پالیسی سے کتنے افغان شہری متاثر ہوں گے، تاہم نئے افغان پاسپورٹس کے اجرا کے لیے درخواستیں بدستور دی جا سکتی ہیں۔
جرمن وزارت داخلہ نے یہ بھی واضح کیا کہ اس فیصلے کا جرمنی میں طالبان کی جانب سے مقرر کردہ سفارتی عملے کی موجودگی یا افغان شہریوں کی ملک بدری سے متعلق جرمن حکومت کے پروگرام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں