خیبرپختونخوا کے شعبہ سیاحت میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں: فیصل کریم کنڈی
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
خیبرپختونخوا کے شعبہ سیاحت میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں: فیصل کریم کنڈی WhatsAppFacebookTwitter 0 12 July, 2025 سب نیوز
پشاور(آئی پی ایس )گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے شعبہ سیاحت میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں، حکومت سرمایہ کاری کیحوالے سے تجاویز کا خیرمقدم کرتی ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کو سرمایہ کاری کیلئے محفوظ ترین خطہ بنائیں گے، صوبے میں صنعتی ترقی پر توجہ دے رہے ہیں۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ کاروباری طبقہ کے پی میں سرمایہ کاری کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائے، نوجوانوں کو درست سمت گامزن کریں گے، نوجوانوں کو آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ تحریک چلانا سب کا جمہوری حق ہے، احتجاج آئین و قانون کے دائرے میں ہونا چاہئے، کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، پرامن احتجاج کرنا سب کا جمہوری حق ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراپوزیشن اراکین کیخلاف کارروائی، سپیکر کے پی کے نے سپیکر پنجاب اسمبلی کو خط لکھ دیا اپوزیشن اراکین کیخلاف کارروائی، سپیکر کے پی کے نے سپیکر پنجاب اسمبلی کو خط لکھ دیا مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں غیر قانونی بستی کے خلاف گرینڈ آپریشن، 1.5 ایکڑ اراضی واگزار کرپشن برداشت نہیں، کرپٹ افسروں کو ہٹایا تو ملک بھر سے سفارشوں کے فون آئے: وزیراعظم پولیس نے حمیرا اصغر کے موبائل فونز اور لیپ ٹاپ سے ڈیٹا حاصل کرلیا بھارت: بی جے پی کی مسلم کش انسانیت سوز پالیسیاں، واشنگٹن پوسٹ کی چشم کشا رپورٹ میں ہولناک انکشافات مولانا فضل الرحمان کا خیبر پختونخوا میں تبدیلی کی خواہش کا اظہار،تبدیلی پی ٹی آئی کے اندر سے آنی چاہیے:سربراہ جے یو آئی
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: میں سرمایہ کاری کے فیصل کریم کنڈی
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔