لکی مروت: پولیس اسٹیشن پر پر دہشت گردوں کا حملہ ناکام، بروقت کارروائی سے بڑی تباہی ٹل گئی
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
خیبرپختونخوا کے ضلع لکی مروت میں تھانہ گمبیلا کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔ پولیس کے مطابق 10 سے 12 مسلح دہشت گردوں نے تھانے پر مورچہ زن ہو کر حملہ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس کے چاق و چوبند دستے نے بروقت جوابی کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔
پولیس حکام نے تصدیق کی ہے کہ تھانہ گمبیلا کی نفری مکمل طور پر محفوظ رہی جبکہ دہشت گرد حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ حملے کے فوراً بعد علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا تاکہ دہشت گردوں کے فرار کے راستوں کی نشاندہی کی جا سکے۔
آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے تھانے پر حملے کو ناکام بنانے پر لکی مروت پولیس کو خراج تحسین پیش کیا اور پولیس اہلکاروں کی جرات اور مستعدی کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس ہر حال میں شہریوں کے تحفظ اور امن دشمن عناصر کی سازشیں ناکام بنانے کیلئے پرعزم ہے۔
ریجنل پولیس آفیسر (آر پی او) بنوں، سجاد خان نے بھی پولیس کی مؤثر اور بروقت کارروائی پر جوانوں کو شاباش دی اور کہا کہ ایسے واقعات پولیس کے حوصلے پست نہیں کر سکتے، بلکہ دہشت گردوں کے خلاف ہمارے عزم کو مزید مضبوط بناتے ہیں۔
ادھر عوامی حلقوں اور مقامی عمائدین نے بھی پولیس کی بہادری پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے امن قائم رکھنے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار کو سراہا۔
Post Views: 6.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔