بھارت میں جس یوٹیوبر جیوتی ملہوترا کو حال ہی میں ’پاکستانی جاسوس‘ قرار دے کر گرفتار کیا گیا، وہ چند ماہ قبل کیرالہ حکومت کی دعوت پر سرکاری مہمان کے طور پر ریاست کے مختلف سیاحتی مقامات کی سیر کر چکی ہیں۔

ہندوستان ٹائمز کے مطابق یہ انکشاف آر ٹی آئی (Right to Information) کے تحت حاصل کردہ سرکاری معلومات سے ہوا ہے، جس نے بھارتی ریاستی سطح پر سفارتی بیانیے کی ساکھ پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

جیوتی ملہوترا، جن کا یوٹیوب چینل Travel with Jo بھارت سمیت پاکستان، بنگلہ دیش اور تھائی لینڈ کی سیاحت پر مبنی ہے، کیرالہ حکومت کے ’ڈیجیٹل انفلوئنسر پروگرام‘ کے تحت نہ صرف ریاستی اداروں کے تعاون سے سفر کرتیں رہیں بلکہ ان کے سفر، رہائش اور دیگر اخراجات بھی کیرالہ ٹورازم نے برداشت کیے۔

یہ سرکاری اسپانسرشپ جنوری 2024 سے مئی 2025 کے درمیان دی گئی، جب وہ کیرالہ کے علاقوں کنّور، کوزیکوڈ، کوچی، الپوزا اور منار کا دورہ کر رہی تھیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان کے لیے جاسوسی کے الزام میں معروف بھارتی یوٹیوبر جیوتی ملہوترا گرفتار

دلچسپ امر یہ ہے کہ اسی جیوتی ملہوترا پر بعد ازاں پاکستانی خفیہ اداروں سے رابطوں کا الزام لگا کر گرفتار کیا گیا۔ بھارت نے ان کی گرفتاری کو ایک بڑی کامیابی کے طور پر پیش کیا، حالانکہ خود بھارت کی ریاستی حکومت انہیں خود مدعو کرکے متعدد مقامات کی سیر کروا چکی تھی۔

اس سے واضح ہوتا ہے کہ بھارتی ریاستوں اور مرکزی حکومت کے بیانیے اکثر ایک دوسرے سے متضاد ہوتے ہیں اور جب بات پاکستان سے منسوب کسی الزام کی ہو، تو حقائق کے برعکس دعوے تیزی سے میڈیا میں پھیلائے جاتے ہیں۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بھارت میں حالیہ برسوں میں ’پاکستانی جاسوس‘ کا بیانیہ اکثر داخلی سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا ہے، جس میں بارہا ایسے افراد کو نشانہ بنایا گیا جن پر کسی بھی طرح کے ناقابلِ تردید شواہد موجود نہیں ہوتے۔

جیوتی ملہوترا کے کیس میں بھی بھارتی پولیس نے تسلیم کیا ہے کہ ان کے پاس کوئی عسکری یا دفاعی معلومات نہیں تھیں۔ محض اس بنا پر انہیں گرفتار کیا گیا کہ ان کے تعلقات پاکستانی ہائی کمیشن کے ایک سابق اہلکار سے تھے، جو کئی مہینے پہلے بھارت سے نکالا جا چکا ہے۔

مزید پڑھیں: ’جاسوس کھلونا‘ پکڑنے کا بھارتی دعویٰ پھر جگ ہنسائی کا باعث بن گیا

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق جیوتی ملہوترا ان 12 افراد میں شامل ہیں جنہیں پنجاب، ہریانہ اور اتر پردیش سے حالیہ مہینوں میں گرفتار کیا گیا، جن پر الزام ہے کہ وہ ایک مبینہ جاسوسی نیٹ ورک کا حصہ تھے۔ یہ نیٹ ورک مبینہ طور پر سوشل میڈیا انفلوئنسرز سے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتا تھا۔ لیکن اب تک کسی بھی مقدمے میں ناقابلِ تردید ثبوت عدالت میں پیش نہیں کیے گئے۔

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت میں معمولی نوعیت کے رابطوں یا سفر کی بنیاد پر کسی بھی شخص کو جاسوس قرار دینا ایک غیر ذمہ دارانہ رجحان بن چکا ہے۔ اس سے نہ صرف آزادیٔ اظہار پر قدغن لگتی ہے بلکہ عالمی سطح پر بھارت کی سفارتی ساکھ کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔

جیوتی ملہوترا کی گرفتاری اور اس سے متعلق سامنے آنے والی آر ٹی آئی رپورٹ ایک واضح تضاد کی نشاندہی کرتی ہے۔ ایک طرف بھارت خود سوشل میڈیا کی طاقت کو اپنی سیاحت کے فروغ کے لیے استعمال کرتا ہے، اور دوسری جانب، اسی ڈیجیٹل دنیا کے کرداروں کو سیاسی بیانیے کے تحت ’دشمن‘ بنا دیا جاتا ہے۔ یہ اس بات کی تازہ مثال ہے کہ بھارت میں پاکستان مخالف بیانیے کو عوامی جذبات اور سفارتی دباؤ کے لیے کس طرح بروئے کار لایا جاتا ہے، خواہ اس کے حقائق کچھ بھی ہوں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بھارت پاکستانی جاسوس جیوتی ملہوترا مودی سرکار یوٹیوبر یوٹیوبر جیوتی ملہوترا.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بھارت پاکستانی جاسوس جیوتی ملہوترا مودی سرکار یوٹیوبر یوٹیوبر جیوتی ملہوترا پاکستانی جاسوس گرفتار کیا گیا جیوتی ملہوترا ہے کہ بھارت بھارت میں کے لیے

پڑھیں:

امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز

امریکی سفارت خانے نے امریکا کی آزادی کے 250 سال مکمل ہونے کی تقریبات کے سلسلے میں جمعرات کو اسلام آباد میں ’لیٹ فریڈم رنگ‘ کے عنوان سے ’لبرٹی بیل‘ نمائش کا افتتاح کر دیا۔

نمائش میں ملک بھر سے تعلق رکھنے والے 16 پاکستانی فنکاروں کے تیار کردہ منفرد فن پارے پیش کیے گئے ہیں، جن میں ہر فنکار نے اپنے انداز میں ‘آزادی’ کے تصور کو اجاگر کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:گورنر خیبرپختونخوا سے امریکی ناظم الامور کی ملاقات، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون بڑھانے پر اتفاق

نمائش کا افتتاح لوک ورثہ میوزیم میں منعقدہ تقریب میں امریکی ناظم الامور اینڈی ہیلس اور وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کچھی نے مشترکہ طور پر کیا۔

پاکستانی فنکاروں نے ‘آزادی’ کی نئی تعبیر پیش کی

امریکی سفارت خانے کے مطابق یہ منصوبہ پاکستان میں امریکی مشن کے پبلک ڈپلومیسی سیکشن نے اپنے ‘لنکن کارنرز’ نیٹ ورک کے ذریعے ترتیب دیا، جس میں ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے 16 فنکاروں کو شریک کیا گیا۔

Federal Minister for NH&C Aurangzeb Khan Khichi and U.S. Chargé d’Affaires Andy Halus on Thursday jointly inaugurated the “Let Freedom Ring” American Liberty Bell display at Lok Virsa Heritage Museum, celebrating the enduring cultural partnership between Pakistan & United States pic.twitter.com/3uqKCelXK9

— National Heritage and Culture Division (@DivisionCulture) July 23, 2026

ہر فنکار سے ایک ہی سوال پوچھا گیا کہ ’میرے لیے آزادی کیا معنی رکھتی ہے؟ ’اس سوال کے جواب میں فنکاروں نے ’لبرٹی بیل‘ کے منفرد ڈیزائن تخلیق کیے، جو پاکستانی نقطۂ نظر سے آزادی کے تصور کی عکاسی کرتے ہیں۔

نمائش 5 روز تک جاری رہے گی

‘لیٹ فریڈم رنگ’ نمائش 23 سے 27 جولائی تک اسلام آباد کے 2 نمایاں ثقافتی مراکز، لوک ورثہ میوزیم اور پاکستان مونومنٹ میوزیم میں جاری رہے گی۔

امریکی سفارت خانے نے شہریوں کو دعوت دی ہے کہ وہ اس 5 روزہ نمائش کے دوران دونوں مقامات کا دورہ کریں اور فن پاروں کا مشاہدہ کریں۔

امریکا اور پاکستان کے مشترکہ اقدار پر زور

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی ناظم الامور اینڈی ہیلس نے کہا کہ ‘لبرٹی بیل’ آزادی، اظہارِ رائے اور بہتر مستقبل کی امید کی علامت ہے۔

أعلنت السفارة الأمريكية في إسلام آباد عن افتتاح معرض ليت فريدوم رينغ في متحف لوك ورثه ومتحف النصب التذكاري الباكستاني، وذلك ضمن الاحتفالات العالمية بمرور ٢٥٠ عامًا على إعلان الاستقلال الأمريكي.

شارك في الافتتاح القائم بالأعمال الأمريكي آندي هيلز ووزير التراث الوطني والثقافة… pic.twitter.com/EcPOSXchyu

— WE News | بالعربية (@WENewsArabic) July 23, 2026

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکا دونوں معاشروں میں فن، تخلیقی اظہار اور بہتر دنیا کے تصور کو اہمیت دی جاتی ہے۔

لوک ورثہ کئی دہائیوں سے پاکستان کی ثقافتی شناخت کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج اس تاریخی مقام پر امریکا کی آزادی کی داستان کو بھی پیش کرنا باعثِ فخر ہے۔

ثقافتی تبادلوں سے تعلقات مضبوط بنانے پر زور

وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کچھی نے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان ثقافتی تبادلے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں:نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے قائم مقام امریکی ناظم الامور کی ملاقات، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال

انہوں نے اس نمائش کو دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات اور باہمی تعاون کی ایک مثبت مثال قرار دیا۔

امریکا 2026 میں اپنے اعلانِ آزادی کی 250 ویں سالگرہ منا رہا ہے۔ اسی مناسبت سے دنیا بھر میں امریکی سفارت خانے اور سفارتی مشنز کے زیرِ اہتمام ‘فریڈم 250’ کے عنوان سے مختلف تقریبات، نمائشوں اور ثقافتی پروگراموں کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔

اسلام آباد میں منعقد کی جانے والی ‘لیٹ فریڈم رنگ’ مہم بھی اسی عالمی پروگرام کا حصہ ہے، جس کا مقصد آزادی، اختراع، تخلیقی اظہار اور ثقافتی روابط کو فروغ دینا ہے۔

اس نمائش کے ذریعے پاکستانی فنکاروں کو اپنے فن کے ذریعے آزادی کے تصور کو پیش کرنے کا موقع فراہم کیا گیا، جسے پاکستان اور امریکا کے درمیان ثقافتی تعاون کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آزادی افتتاح لوک ورثہ میوزیم امریکا امریکی سفارتخانہ امریکی ناظم الامور اینڈی ہیلس پاکستان ثقافتی تبادلہ فنکاروں لبرٹی بیل لیٹ فریڈم رنگ مونومنٹ میوزم

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا