WE News:
2026-06-03@03:16:01 GMT

ٹیکنالوجی کے اُجالے میں تنہائی کا اندھیرا؟

اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT

یہ زمانہ روشنیوں کا ہے۔ اسکرینز کی جگمگاہٹ، نوٹیفکیشن کی چمک، اور ہر وقت کسی نہ کسی سے ’کنیکٹڈ‘ ہونے کا فریب دیتی دنیا۔ ہم رابطوں کی ایسی طلسماتی دنیا میں جی رہے ہیں جہاں فاصلے مٹ چکے ہیں، آوازیں لمحوں میں سرحدیں پار کرلیتی ہیں، اور وڈیو کالز پر آنکھوں کے اشارے دھڑکنوں سے جُڑ جاتے ہیں۔ پھر بھی ۔ ۔ ۔ یہ کیسا دور ہے کہ جتنا قریب آتے جا رہے ہیں، اتنا ہی تنہا ہوتے جا رہے ہیں؟

ٹیکنالوجی کے شور میں ہم ہر لمحے کسی نہ کسی سے جُڑے ہوئے محسوس کرتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس ڈیجیٹل چمک نے انسانوں کے بیچ ایک ایسی تاریکی بھر دی ہے جو ماضی میں تنہا پہاڑوں یا سنسان گلیوں میں ہوا کرتی تھی۔ ہم نے تعلق کو لمحاتی پیغامات،GIFs اور ایموجیز میں ناپنا سیکھ لیا ہے اور یوں ایک ایسا خلا پیدا ہو چکا ہے جسے نہ کوئی ایپ پُر کر سکتی ہے، نہ کوئی اسکرین۔

عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی تازہ رپورٹ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دنیا کا ہر چھٹا انسان کسی نہ کسی شکل میں تنہائی کا شکار ہے۔ اور یہ کوئی معمولی احساسِ محرومی نہیں بلکہ ایک خاموش وبا ہے، جو ہر گھنٹے 100 انسانوں کو زندگی کی ڈور سے کاٹ دیتی ہے۔

یہ تحریر محض ایک رپورٹ کا خلاصہ نہیں، بلکہ ایک آئینہ ہے جو ہمیں ہمارا اپنا عکس دکھاتا ہے۔ اسمارٹ فونز، سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل دنیا میں گم ہوتے وجود کا عکس۔

ہم نے واٹس ایپ گروپس بنائے، فالوورز بڑھائے، انسٹاگرام پر تصویریں پوسٹ کیں، لیکن رات کے آخری پہر تنہائی کا عفریت چپکے سے ہمیں آن گھیرتا ہے۔ چیٹ باکسز بھرے ہوتے ہیں، مگر دل کے خانے خالی۔ سوال یہ نہیں کہ ہم کس سے بات کر رہے ہیں، سوال یہ ہے کہ کس کے ساتھ دل کی بات کر رہے ہیں؟

رپورٹ بتاتی ہے کہ تنہائی ہر عمر کو متاثر کرتی ہے، مگر سب سے زیادہ متاثر نوجوان ہیں۔ وہی نسل جو ٹیکنالوجی سے سب سے زیادہ قریب ہے۔ کیا ہم نے تعلق کو اس حد تک ٹیکنالوجی میں تلاش کیا کہ تعلق کا اصل مفہوم کھو دیا؟

مزید پڑھیں: تنہائی ہر گھنٹے 100 جانیں نگل جاتی ہے، عالمی ادارہ صحت کی چونکا دینے والی رپورٹ

سوشل میڈیا کی رنگینی کے پیچھے ایک گہرا اندھیرا ہے۔ اسکرولنگ کی لت، ورچوئل مقبولیت کی دوڑ، اور ریئل لائف سے بیزاری۔ ہم نے ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا ہے جہاں لوگ سینکڑوں دوستوں کے باوجود ایک سچے ہم دم کو ترس رہے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ ایک اور پہلو بھی واضح کرتی ہے کہ تنہائی صرف جذباتی کیفیت نہیں، بلکہ ایک جسمانی بیماری بھی ہے۔ یہ فالج، دل کے امراض، ذہنی زوال، اور قبل از وقت موت کا باعث بن سکتی ہے۔ کبھی کبھی انسان کو جسمانی زخموں سے زیادہ تنہا شاموں کا دکھ کھا جاتا ہے۔

اگر مسئلہ محض ٹیکنالوجی نہیں تو حل بھی صرف ڈیجیٹل ڈیٹاکس (Digital Detox) نہیں ہو سکتا۔ ہمیں رشتے نبھانے، وقت دینے اور سننے سنانے کا فن دوبارہ سیکھنا ہوگا۔ اسکرین پر رابطہ ہونا، دل کا تعلق ہونے کے برابر نہیں۔ اور اصل رابطہ وہ ہوتا ہے جس میں خامشی بھی معنی رکھتی ہو۔

ہمیں چاہیے کہ ڈیجیٹل دنیا میں جیتے ہوئے بھی حقیقی انسانوں کے ساتھ جینا سیکھیں۔ انسٹاگرام لائیکس یا واٹس ایپ اسٹیٹس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ کسی کی آنکھوں میں دیکھ کر مسکرایا جائے، کسی کی آواز سُن کر اس کا درد بانٹا جائے، اور کسی خاموش دل کو اپنا وقت دیا جائے۔

یہ مسئلہ صرف مغرب تک محدود نہیں۔ پاکستانی معاشرہ جہاں خاندانی نظام، مذہبی رشتے اور سماجی میل جول ہمیشہ سے مضبوط رہا ہے، اب تیزی سے ڈیجیٹل تنہائی کا شکار ہو رہا ہے۔ دیہی اور شہری نوجوان، جو پہلے بزرگوں، ہمسایوں اور ’چوپال‘ سے جُڑے ہوتے تھے، اب اسکرینز کے پیچھے ایک الگ دنیا میں قید ہوچکے ہیں۔ کچھ کی تنہائی اضطراب میں، کچھ کا سکون ’سوشل میڈیا ایڈکشن‘ میں بدل چکا ہے۔

وقت ہے کہ ہم ٹیکنالوجی کی روشنی سے دھوکا نہ کھائیں بلکہ اسے رابطوں کی حرارت میں بدلیں۔ ورنہ ایک دن ایسا آئے گا کہ ہر نوجوان کے ہاتھ میں فون تو ہوگا، لیکن دل میں صرف ایک سوال! کیا کوئی واقعی میرے ساتھ ہے؟ قومیں ٹیکنالوجی سے نہیں، رشتوں سے زندہ رہتی ہیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

مشکور علی

Digital Detox تنہائی تنہائی کا زہر ٹیکنالوجی کے اُجالے میں تنہائی کا اندھیرا؟ چوپال دل سے رابطہ عالمی ادارہ صحت مشکورعلی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: تنہائی تنہائی کا زہر عالمی ادارہ صحت مشکورعلی تنہائی کا سے زیادہ دنیا میں رہے ہیں

پڑھیں:

عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی

بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔

ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔

ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔

ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔

اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

 نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

 لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

 ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔

پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان