WE News:
2026-07-24@13:43:07 GMT

ٹیکنالوجی کے اُجالے میں تنہائی کا اندھیرا؟

اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT

یہ زمانہ روشنیوں کا ہے۔ اسکرینز کی جگمگاہٹ، نوٹیفکیشن کی چمک، اور ہر وقت کسی نہ کسی سے ’کنیکٹڈ‘ ہونے کا فریب دیتی دنیا۔ ہم رابطوں کی ایسی طلسماتی دنیا میں جی رہے ہیں جہاں فاصلے مٹ چکے ہیں، آوازیں لمحوں میں سرحدیں پار کرلیتی ہیں، اور وڈیو کالز پر آنکھوں کے اشارے دھڑکنوں سے جُڑ جاتے ہیں۔ پھر بھی ۔ ۔ ۔ یہ کیسا دور ہے کہ جتنا قریب آتے جا رہے ہیں، اتنا ہی تنہا ہوتے جا رہے ہیں؟

ٹیکنالوجی کے شور میں ہم ہر لمحے کسی نہ کسی سے جُڑے ہوئے محسوس کرتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس ڈیجیٹل چمک نے انسانوں کے بیچ ایک ایسی تاریکی بھر دی ہے جو ماضی میں تنہا پہاڑوں یا سنسان گلیوں میں ہوا کرتی تھی۔ ہم نے تعلق کو لمحاتی پیغامات،GIFs اور ایموجیز میں ناپنا سیکھ لیا ہے اور یوں ایک ایسا خلا پیدا ہو چکا ہے جسے نہ کوئی ایپ پُر کر سکتی ہے، نہ کوئی اسکرین۔

عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی تازہ رپورٹ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دنیا کا ہر چھٹا انسان کسی نہ کسی شکل میں تنہائی کا شکار ہے۔ اور یہ کوئی معمولی احساسِ محرومی نہیں بلکہ ایک خاموش وبا ہے، جو ہر گھنٹے 100 انسانوں کو زندگی کی ڈور سے کاٹ دیتی ہے۔

یہ تحریر محض ایک رپورٹ کا خلاصہ نہیں، بلکہ ایک آئینہ ہے جو ہمیں ہمارا اپنا عکس دکھاتا ہے۔ اسمارٹ فونز، سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل دنیا میں گم ہوتے وجود کا عکس۔

ہم نے واٹس ایپ گروپس بنائے، فالوورز بڑھائے، انسٹاگرام پر تصویریں پوسٹ کیں، لیکن رات کے آخری پہر تنہائی کا عفریت چپکے سے ہمیں آن گھیرتا ہے۔ چیٹ باکسز بھرے ہوتے ہیں، مگر دل کے خانے خالی۔ سوال یہ نہیں کہ ہم کس سے بات کر رہے ہیں، سوال یہ ہے کہ کس کے ساتھ دل کی بات کر رہے ہیں؟

رپورٹ بتاتی ہے کہ تنہائی ہر عمر کو متاثر کرتی ہے، مگر سب سے زیادہ متاثر نوجوان ہیں۔ وہی نسل جو ٹیکنالوجی سے سب سے زیادہ قریب ہے۔ کیا ہم نے تعلق کو اس حد تک ٹیکنالوجی میں تلاش کیا کہ تعلق کا اصل مفہوم کھو دیا؟

مزید پڑھیں: تنہائی ہر گھنٹے 100 جانیں نگل جاتی ہے، عالمی ادارہ صحت کی چونکا دینے والی رپورٹ

سوشل میڈیا کی رنگینی کے پیچھے ایک گہرا اندھیرا ہے۔ اسکرولنگ کی لت، ورچوئل مقبولیت کی دوڑ، اور ریئل لائف سے بیزاری۔ ہم نے ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا ہے جہاں لوگ سینکڑوں دوستوں کے باوجود ایک سچے ہم دم کو ترس رہے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ ایک اور پہلو بھی واضح کرتی ہے کہ تنہائی صرف جذباتی کیفیت نہیں، بلکہ ایک جسمانی بیماری بھی ہے۔ یہ فالج، دل کے امراض، ذہنی زوال، اور قبل از وقت موت کا باعث بن سکتی ہے۔ کبھی کبھی انسان کو جسمانی زخموں سے زیادہ تنہا شاموں کا دکھ کھا جاتا ہے۔

اگر مسئلہ محض ٹیکنالوجی نہیں تو حل بھی صرف ڈیجیٹل ڈیٹاکس (Digital Detox) نہیں ہو سکتا۔ ہمیں رشتے نبھانے، وقت دینے اور سننے سنانے کا فن دوبارہ سیکھنا ہوگا۔ اسکرین پر رابطہ ہونا، دل کا تعلق ہونے کے برابر نہیں۔ اور اصل رابطہ وہ ہوتا ہے جس میں خامشی بھی معنی رکھتی ہو۔

ہمیں چاہیے کہ ڈیجیٹل دنیا میں جیتے ہوئے بھی حقیقی انسانوں کے ساتھ جینا سیکھیں۔ انسٹاگرام لائیکس یا واٹس ایپ اسٹیٹس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ کسی کی آنکھوں میں دیکھ کر مسکرایا جائے، کسی کی آواز سُن کر اس کا درد بانٹا جائے، اور کسی خاموش دل کو اپنا وقت دیا جائے۔

یہ مسئلہ صرف مغرب تک محدود نہیں۔ پاکستانی معاشرہ جہاں خاندانی نظام، مذہبی رشتے اور سماجی میل جول ہمیشہ سے مضبوط رہا ہے، اب تیزی سے ڈیجیٹل تنہائی کا شکار ہو رہا ہے۔ دیہی اور شہری نوجوان، جو پہلے بزرگوں، ہمسایوں اور ’چوپال‘ سے جُڑے ہوتے تھے، اب اسکرینز کے پیچھے ایک الگ دنیا میں قید ہوچکے ہیں۔ کچھ کی تنہائی اضطراب میں، کچھ کا سکون ’سوشل میڈیا ایڈکشن‘ میں بدل چکا ہے۔

وقت ہے کہ ہم ٹیکنالوجی کی روشنی سے دھوکا نہ کھائیں بلکہ اسے رابطوں کی حرارت میں بدلیں۔ ورنہ ایک دن ایسا آئے گا کہ ہر نوجوان کے ہاتھ میں فون تو ہوگا، لیکن دل میں صرف ایک سوال! کیا کوئی واقعی میرے ساتھ ہے؟ قومیں ٹیکنالوجی سے نہیں، رشتوں سے زندہ رہتی ہیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

مشکور علی

Digital Detox تنہائی تنہائی کا زہر ٹیکنالوجی کے اُجالے میں تنہائی کا اندھیرا؟ چوپال دل سے رابطہ عالمی ادارہ صحت مشکورعلی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: تنہائی تنہائی کا زہر عالمی ادارہ صحت مشکورعلی تنہائی کا سے زیادہ دنیا میں رہے ہیں

پڑھیں:

موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم

دین و دنیا پروگرام اسلام ٹائمز کی ویب سائٹ پر ہر جمعہ نشر کیا جاتا ہے، اس پروگرام میں مختلف دینی و مذہبی موضوعات کو خصوصاً امام و رہبر کی نگاہ سے، مختلف ماہرین کے ساتھ گفتگو کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے۔ ناظرین کی قیمتی آراء اور مفید مشوروں کا انتظار رہتا ہے۔ متعلقہ فائیلیں پروگرام: دین و دنیا
موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
مہمان: عالمہ رافعہ منیر
میزبان : مولانا سید تقی زیدی
پیش کار و مدیر: سید انجم رضا
پیشکش: آئی ٹائمز ٹی وی اسلام ٹائمز اردو
خلاصہ گفتگو: 
کربلا میں عشق کے دو بلند ترین مینار ہیں: ایک سرورِ شہداء امام حسین علیہ السلام کی قربانی کا جلوہ، اور دوسرا اس آفتابِ عصمت کی تابناکی، جس کا نام حضرت زینب سلام اللہ علیہا ہے۔ یہیں پر خواتین کا کردار تاریخ کی سب سے درخشاں داستان بن کر ابھرتا ہے۔ بی بی زینبؑ نے نہ صرف اپنی آنکھوں سے بھائی کے لہو کا منظر دیکھا، بلکہ اپنی گفتار اور استقامت سے عاشورہ کی نہضت کو ابدی زندگی عطا کی، یزید کی باطل حکومت کو جوابِ شافی دیا اور اسے اخلاقی شکست کا مزہ چکھایا۔ کربلائی خواتین نے اپنے شوہروں، بھائیوں اور بچوں کو حوصلہ دیا کہ وہ اپنے امام کی راہ میں سبقت کریں؛ چنانچہ چھوٹے سے چھوٹے طفلِ شیرخوار نے بھی لبِ تشنہ سے قربانی کا یہ پیغام جگا دیا کہ عشقِ حسینی میں کسی کو کسی کی پروا نہیں، بس جلوۂ حق ہے اور اس کی خاطر ہر چیز فدا۔
 
یہ انفرادی جہاد ہی نہیں، بلکہ خواتین کا اجتماعی کردار بھی معاشرے کی تشکیل میں ناقابلِ فراموش حیثیت رکھتا ہے۔ شہیدِ امت، رہبر معظم انقلاب نے بارہا اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ معاشرہ خواتین کے کردار کے بغیر اپنی پختگی اور تکمیل نہیں پا سکتا۔ لہٰذا خواتین کو اپنے ہر شعبۂ زندگی، خاص طور پر علم و تعلیم کے میدان میں کمال حاصل کرنا چاہیے، کیونکہ بعض ذمہ داریاں ایسی ہیں جنہیں مرد انجام نہیں دے سکتے، مگر ایک باہوش، باصلاحیت اور تربیت یافتہ عورت انہیں بہترین انداز میں سرانجام دے سکتی ہے۔ یہی وہ راہ ہے جو کربلا کی درسگاہ سے نکلتی ہے اور ہر دور کی خواتین کو اپنی داخلی قوت کو پہچاننے اور اپنے معاشرتی فرائض کو پورا کرنے کا پیغام دیتی ہے۔
 

متعلقہ مضامین

  • قدیم انجینیئرنگ سے دنیا حیران، 2 ہزار سال پرانا چینی تالا جسے کھولنے کے لیے محض چابی نہیں بڑا دماغ بھی چاہیے
  • موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
  • امریکا نے ایران، روس اور چین کے 130 تحقیقاتی و تعلیمی اداروں پر پابندی لگادی
  • میں نے اپنی قبر تیار کروا رکھی ہے، لیجنڈ گلوکار عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کا انکشاف
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم