بھارت اپنے پاکستان مخالف نظریے کو دنیا کے لیے نارمل بنا رہا ہے، بلاول
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ بھارت کا پاکستان مخالف نظریہ پاکستانی اور بھارتی دونوں عوام کے لیے خطرناک ہے، انہوں نے کہا بھارت اپنے پاکستان مخالف نظریے کو دنیا کے لیے نارمل بنا رہا ہے، ایف اے ٹی ایف کے مکمل مراحل سے گزر کر یہاں تک آئے ہیں۔
الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت اپنے پاکستان مخالف نظریے کو دنیا کے لیے نارمل بنا رہا ہے، یہ نیا نظریہ پاکستانی اور بھارتی عوام دونوں کے لیے خطرناک ہے، پاکستان کا ماضی صرف ایک ملک کا ماضی نہیں بلکہ خطے کے ماضی کی عکاسی ہے۔
بلاول نے کہا کہ پاکستان ایف اے ٹی ایف کے مکمل مراحل سے گزر کر یہاں تک آیا ہے، ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو سراہا ہے بھارت میں ہونے والے 2019 اور اس کے دہشت گرد حملوں میں پاکستان ملوث نہیں ہے۔
پاکستان کو روز کی بنیاد پر دہشت گردی کے واقعات کا سامنا کرنا بڑتا ہے۔بلاول نے مزید کہا کہ بھارت پہلگام حملوں کے ٹھوس شواہد فراہم نہیں کرسکا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پاکستان مخالف نے پاکستان نے کہا کے لیے
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔