جماعت اسلامی نے مخصوص نشستیں پی ٹی آئی کو دینے کا مطالبہ کردیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
منصورہ لاہور میں کارکنوں کے تربیتی سیشن سے خطاب میں امیر جماعت کا کہنا تھا کہ سیٹیں چھینی اور من پسند لوگوں میں بانٹی جاتی ہیں، جبکہ باجوہ کو ایکسٹیشن دینے اور اپنی تنخواہوں میں اضافے کیلئے یہ سب اکٹھے ہو جاتے ہیں، مگر غزہ و کشمیر میں ہونیوالے ظلم پر سب خاموش ہو جاتے ہیں، حکمرانوں کا کام مذمت کرنا نہیں، بلکہ اقدامات اٹھانا ہوتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے مخصوص نشستوں کے غیر منصفانہ فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے یہ سیٹیں پی ٹی آئی کو دینے کا مطالبہ کردیا۔ منصورہ لاہور میں جماعت اسلامی کے زیراہتمام تربیتی سیشن میں مختلف شہروں سے آئے کارکنوں اور رہنماوں نے شرکت کی۔ تربیتی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی، ن لیگ ہو یا پی ٹی آئی سب اسٹیبلشمنٹ کے مہرے ہیں، تاہم مخصوص نشستوں کے غیرمنصفانہ فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے یہ سیٹیں پی ٹی آئی کو دینے کا مطالبہ کیا۔ حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ مقتدر ٹولہ کسی آئین و قانون کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے ملک کو بند گلی میں دھکیلنے پر تُلا بیٹھا ہے، جبکہ اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت نے انتخابی نظام کا حلیہ بگاڑ دیا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے مزید کہا کہ سیٹیں چھینی اور من پسند لوگوں میں بانٹی جاتی ہیں، جبکہ باجوہ کو ایکسٹیشن دینے اور اپنی تنخواہوں میں اضافے کیلئے یہ سب اکٹھے ہو جاتے ہیں، مگر غزہ و کشمیر میں ہونیوالے ظلم پر سب خاموش ہو جاتے ہیں، حکمرانوں کا کام مذمت کرنا نہیں، بلکہ اقدامات اٹھانا ہوتا ہے۔ امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ اربوں روپے کے اشتہارات دیکر خوشحالی کے جھوٹے دعوے کرنا حکمرانوں کا پسندیدہ مشغلہ بن چکا ہے، تاہم جماعت اسلامی ملک سے گالی، گولی، تعصب اور نفرت کی سیاست کو ختم کرے گی اور جماعت اسلامی ملک میں آئین و دستور کی بالا دستی اور قانون کی حکمرانی چاہتی ہے، قوم کو فروعی اختلافات سے نکال کر اتحاد و یکجہتی کیلئے کوشاں اور سیاسی عمل کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔