منصورہ لاہور میں کارکنوں کے تربیتی سیشن سے خطاب میں امیر جماعت کا کہنا تھا کہ سیٹیں چھینی اور من پسند لوگوں میں بانٹی جاتی ہیں، جبکہ باجوہ کو ایکسٹیشن دینے اور اپنی تنخواہوں میں اضافے کیلئے یہ سب اکٹھے ہو جاتے ہیں، مگر غزہ و کشمیر میں ہونیوالے ظلم پر سب خاموش ہو جاتے ہیں، حکمرانوں کا کام مذمت کرنا نہیں، بلکہ اقدامات اٹھانا ہوتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے مخصوص نشستوں کے غیر منصفانہ فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے یہ سیٹیں پی ٹی آئی کو دینے کا مطالبہ کردیا۔ منصورہ لاہور میں جماعت اسلامی کے زیراہتمام تربیتی سیشن میں مختلف شہروں سے آئے کارکنوں اور رہنماوں نے شرکت کی۔ تربیتی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی، ن لیگ ہو یا پی ٹی آئی سب اسٹیبلشمنٹ کے مہرے ہیں، تاہم مخصوص نشستوں کے غیرمنصفانہ فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے یہ سیٹیں پی ٹی آئی کو دینے کا مطالبہ کیا۔ حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ مقتدر ٹولہ کسی آئین و قانون کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے ملک کو بند گلی میں دھکیلنے پر تُلا بیٹھا ہے، جبکہ اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت نے انتخابی نظام کا حلیہ بگاڑ دیا ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے مزید کہا کہ سیٹیں چھینی اور من پسند لوگوں میں بانٹی جاتی ہیں، جبکہ باجوہ کو ایکسٹیشن دینے اور اپنی تنخواہوں میں اضافے کیلئے یہ سب اکٹھے ہو جاتے ہیں، مگر غزہ و کشمیر میں ہونیوالے ظلم پر سب خاموش ہو جاتے ہیں، حکمرانوں کا کام مذمت کرنا نہیں، بلکہ اقدامات اٹھانا ہوتا ہے۔ امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ اربوں روپے کے اشتہارات دیکر خوشحالی کے جھوٹے دعوے کرنا حکمرانوں کا پسندیدہ مشغلہ بن چکا ہے، تاہم جماعت اسلامی ملک سے گالی، گولی، تعصب اور نفرت کی سیاست  کو ختم  کرے گی اور جماعت اسلامی ملک میں آئین و دستور کی بالا دستی اور قانون کی حکمرانی چاہتی ہے، قوم کو فروعی اختلافات سے نکال کر اتحاد و یکجہتی کیلئے کوشاں اور سیاسی عمل کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی