لکی مروت پولیس کی بروقت کارروائی، تھانے پر فتنہ الخوارج کا حملہ ناکام
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
لکی مروت پولیس کی بروقت کارروائی، تھانے پر فتنہ الخوارج کا حملہ ناکام WhatsAppFacebookTwitter 0 12 July, 2025 سب نیوز
لکی مروت(آئی پی ایس)پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے تھانے پر دہشت گردوں کے حملے کی کوشش ناکام بنا دی۔
خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع لکی مروت میں تھانا گمبیلا پر دس بارہ دہشت گردوں نے حملے کی کوشش کی، پولیس نے تھانے کے قریب دہشت گردوں کی نقل و حرکت بھانپتے ہوئے فائرنگ شروع کی۔
پولیس کی فائرنگ سے دہشت گرد فرار ہو گئے، حملے میں پولیس نفری مکمل محفوظ رہی اور دہشت گردوں کی حملہ کرنے کی کوشش ناکام ہوئی۔
آئی جی خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے فون کر کے لکی مروت پولیس کے جوانوں کو خراج تحسین پیش کیا۔
آر پی او بنوں ریجن سجاد خان کے مطابق دہشت گرد حملے سے نمٹنے کے لیے پولیس فورس پہلے سے الرٹ اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربنگلا دیش: سابق پولیس سربراہ نے انسانیت کے خلاف جرائم کا اعتراف کرلیا، حسینہ واجد پر فرد جرم بنگلا دیش: سابق پولیس سربراہ نے انسانیت کے خلاف جرائم کا اعتراف کرلیا، حسینہ واجد پر فرد جرم قانون کی حکمرانی تک ملک ترقی نہیں کر سکتا، شاہد خاقان عباسی لاہور تا رائیونڈ صرف 16 کلومیٹر کی موٹروے؟ ،قائمہ کمیٹی اجلاس میں انکشاف معطل اراکین کا معاملہ ، اسپیکر پنجاب اسمبلی اور اپوزیشن کی ملاقات کی اندرونی کہانی سب نیوز پر مخصوص نشستوں پر ممبران سے حلف لینے کیلئے ن لیگ کی پشاور ہائیکورٹ میں درخواست سانحہ دریائے سوات، انکوائری رپورٹ پیش وزیراعلیٰ کو پیش ، غفلت کے مرتکب افراد کیخلاف کارروائی کی منظوریCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: لکی مروت
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔