اسرائیل کے ساتھ جاری مذاکرات‘ جلدسکیورٹی معاہدہ طے پا سکتا ہے.احمد الشرع
اشاعت کی تاریخ: 18th, September 2025 GMT
دمشق(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔18 ستمبر ۔2025 )شام کے عبوری صدر احمد الشرع نے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ جاری مذاکرات کے نتیجے میں ایک سکیورٹی معاہدہ آنے والے دنوں میں طے پا سکتا ہے دمشق میں صحافیوں سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ یہ سکیورٹی معاہدہ ایک ضرورت ہے بشرط کہ شامی فضائی حدود اور علاقائی سالمیت کا احترام کیا جائے اور یہ سب اسلامی قانون کے مطابق اور اقوام متحدہ کی نگرانی میں ہو.
(جاری ہے)
الشرع نے کہا کہ جولائی میں شام اور اسرائیل ایک سکیورٹی معاہدے کے بہت قریب تھے کہ صوبہ سویڈا کے جنوب میں ہونے والی ایک کارروائی نے ان مذاکرات کو متاثر کیا شام اور اسرائیل اس وقت ایسے معاہدے کے لیے بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں جس کے بارے میں دمشق کو امید ہے کہ اس کے نتیجے میں اسرائیلی فضائی حملے رک جائیں گے اور جنوبی شام تک پیش قدمی کرنے والی اسرائیلی افواج پیچھے ہٹ جائیں گی. برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق واشنگٹن کی جانب سے شامی حکومت پر دباﺅمیں اضافہ ہو رہا ہے کہ وہ آئندہ ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر عالمی راہنماﺅں کی ملاقات سے قبل ایک معاہدہ طے کر لے لیکن الشرع نے نیویارک کے مجوزہ دورے سے قبل صحافیوں سے گفتگو میں اس بات کی تردید کی کہ امریکہ شام پر کوئی دباﺅ ڈال رہا ہے ان کا کہنا تھا کہ امریکہ دراصل ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے. انہوں نے کہا کہ 8 دسمبر سے جس دن الشرع کی قیادت میں ہونے والے آپریشن نے سابق شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کا تختہ الٹا اسرائیل شام میں ایک ہزار سے زیادہ فضائی حملے اور 400 سے زائد سرحد کی خلاف ورزی کر چکاہے.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے نے کہا
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔