پاکستان اور سعودی عرب کے مابین اسٹرٹیجک دفاعی معاہدہ بہترین سفارتکاری کا نتیجہ اور تاریخی کامیابی ہے۔ خواجہ رمیض حسن
اشاعت کی تاریخ: 18th, September 2025 GMT
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 ستمبر2025ء) مسلم لیگ ق کے رہنما خواجہ رمیض حسن نے پریس ریلیز میں کہا کہ پاکستان دفاعی صلاحیتوں میں جدید خطوط پر استوار ہے۔
(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ افواجِ پاکستان، باالخصوص آئی ایس آئی کی پیشہ ورانہ حکمتِ عملی سے ریاست استحکام کی جانب گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین اسٹرٹیجک دفاعی معاہدہ بہترین سفارتکاری کا نتیجہ اور تاریخی کامیابی ہے جس کے دورس نتائج مرتب ہوں گے۔ اسرائیل کے نا پاک وجود سے دنای کو پاک کرتے ہوئے قیام امن کے لیے پر امن طاقتوں کا ایک پیج پر ہونا انتہائی ضروری ہے
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔