لاہور:

پنجاب اسمبلی ہال میں سینیٹ کی خالی نشست پر ضمنی انتخاب کے لیے پولنگ کا آغاز ہوگیا۔

ریٹرننگ افسر شریف اللہ نے پولنگ کا عمل شروع کروایا جو شام 4 بجے تک بلا تعطل جاری رہے گا۔ یہ نشست پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اعجاز احمد چوہدری کی نااہلی کے بعد خالی ہوئی تھی۔

سینیٹ کی اس نشست پر حکومتی اتحاد کے امیدوار رانا ثنا اللہ اور اپوزیشن کی جانب سے ان کی مد مقابل سلمیٰ اعجاز کے درمیان کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے۔

ووٹنگ کا عمل پنجاب اسمبلی کی نئی عمارت میں ہورہا ہے، جہاں انتخابات میں صوبائی اسمبلی کے 363 اراکین اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ ترجمان صوبائی الیکشن کمشنر پنجاب کے مطابق کامیابی کے لیے امیدوار کو 181.

5 ووٹ درکار ہوں گے۔ مسلم لیگ ن اور اس کی اتحادی جماعتوں کے حمایت یافتہ رانا ثنا اللہ کو 263 ووٹوں کی حمایت حاصل ہے جب کہ اپوزیشن امیدوار سلمیٰ اعجاز کو 100 ووٹوں کی حمایت حاصل ہے۔

اس سے قبل الیکشن کمیشن کا عملہ پنجاب اسمبلی پہنچا اور پولنگ کے انتظامات مکمل کیے۔ اپوزیشن نے انتخابی عمل کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا۔ ڈپٹی اپوزیشن لیڈر معین قریشی نے واضح کیا کہ کسی بھی رکن نے اسمبلی جاکر ووٹ کاسٹ کیا تو وہ پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کاغذات نامزدگی واپس لینے کا وقت ختم ہو جانے کے باعث ایسا ممکن نہ ہوسکا۔

پنجاب اسمبلی میں کل اراکین کی تعداد 371 ہے جن میں سے اس وقت 363 موجود ہیں جبکہ 8 نشستیں خالی ہیں۔ ان میں 6 پی ٹی آئی ارکان نااہل قرار پائے اور 2 نے تاحال حلف نہیں لیا۔

مسلم لیگ ن کے 229، پیپلز پارٹی کے 16، آئی پی پی کے 7، مسلم لیگ ق کے 11 ووٹ ہیں۔ اپوزیشن میں سنی اتحاد کونسل کے 73 اور تحریک انصاف کے 24 ووٹ شامل ہیں جب کہ تحریک لبیک، مسلم لیگ ضیا اور مجلس وحدت المسلمین کے پاس ایک ایک ووٹ ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پنجاب اسمبلی مسلم لیگ

پڑھیں:

کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار

پشاور:

خیبرپختونخوا اسمبلی میں ناراض حکومتی ارکان کے ساتھ مفاہمت نہ ہوسکی ناراض ارکان نے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے آج اجلاس طلب کرلیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی ارکان کا ناراض گروپ اپنے مطالبات پر ڈٹ گیا، ناراض ارکان سے سابق اسپیکر اسد قیصر اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے بھی رابطہ کیا ہے لیکن ناراض ارکان نے حکومت کے علاقہ کسی سے بھی مذاکرات سے انکار کردیا۔

ناراض ارکان کا کہنا ہے کہ ہمیں وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے یقین دہانی چاہیے، ایک ناراض رکن نے بتایا کہ ہمارا کوئی فارورڈ بلاک نہیں اگر فارورڈ بلاک بنتا ہے تو یہ عمران خان کے خلاف ہوگا ہم حکومت کے پالیسیوں سے ناراض ہیں مرکزی قیادت کو بتایا دیا گیا ہے اور انھیں خط بھی لکھا گیا ہے لیکن پارٹی چیئرمین کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا، ناراض ارکان نے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے اجلاس آج دوبارہ طلب کرلیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب