ابراہیم اکارڈ بعض بڑے مسائل کی وجہ سے ناقابل قبول ہے، طاہر اشرفی
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
پی یو سی کے چیئرمین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اور فرانس کی مشترکہ صدارت میں فلسطینی ریاست کے قیام کے متعلق بین الاقوامی کانفرنس 28-29 جولائی کو متوقع ہے، مسئلہ فلسطین کے پُرامن حل اور ایک آزاد و خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کیلئے یہ کانفرنس جون میں منعقد ہونی تھی، تاہم اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد منسوخ کر دی گئی تھی۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین حافظ طاہر اشرفی کا کہنا ہے کہ فلسطینی ریاست کے قیام سے متعقلق بین الاقوامی کانفرنس 28 اور 29 جولائی کو متوقع ہے، جس کی صدارت سعودی عرب اور فرانس مشترکہ طورپر کریں گے۔ حافظ طاہر اشرفی نے کہاکہ ابراہیم اکارڈ کا معاملہ صرف فلسطین کیلئے نہیں بعض دیگر مسائل کی وجہ سے بھی قابل قبول نہیں، پاکستان سعودی عرب سمیت اسلامی دنیا نے ابراہیم اکارڈ پر دستخط نہیں کیے، بلاوجہ پاکستان اور سعودی عرب اور اسلامی دنیا کے حوالے سے افواہ سازی نہ کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور فرانس کی مشترکہ صدارت میں فلسطینی ریاست کے قیام کے متعلق بین الاقوامی کانفرنس 28-29 جولائی کو متوقع ہے، مسئلہ فلسطین کے پُرامن حل اور ایک آزاد و خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کیلئے یہ کانفرنس جون میں منعقد ہونی تھی، تاہم اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد منسوخ کر دی گئی تھی۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے طلب کردہ کانفرنس نیو یارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں ہوگی، اس کا مقصد فوری طور پر ایسے ٹھوس اقدامات کو اپنانا ہے جو فلسطین کی آزاد و خود مختار ریاست کے قیام، اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان دہائیوں سے جاری تنازعات کے خاتمے کا باعث بنیں گے، اُمید ہے کہ فرانس اور دیگر ممالک کانفرنس کے دوران فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا باضابطہ اعلان کریں گے، اس ہفتے فرانس نے برطانوی حکومت پر بھی ایسا ہی کرنے پر زور دیا تھا۔ اقوام متحدہ کے 193 رکن ممالک میں سے147 نے فلسطین کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا ہوا ہے۔ فلسطین عالمی ادارے میں مبصر کی حیثیت رکھتا ہے، لیکن مکمل رکنیت حاصل نہیں، یہ کانفرنس ایسے موقع پر ہونے جا رہی ہے جب غزہ’’ناقابل تصور مصائب‘‘برداشت کر رہا ہے۔ طاہراشرفی نے کہا کہ سعودی عرب، پاکستان اور دیگر مسلم ممالک کیساتھ کھڑا ہے جو حقیقی اور دائمی تبدیلی لانے کی غرض سے سفارتی کوششوں کیلئے پُرعزم ہیں تاکہ مسئلہ فلسطین کے پرامن حل کو ایک بار اور ہمیشہ کیلئے یقینی بنایا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: فلسطینی ریاست کے قیام سعودی عرب اور
پڑھیں:
لاہور میں ہونیوالی ’’شہید اُمت کانفرنس‘‘ میں ایک اور نشست کا اضافہ
ترجمان اتحاد اُمت فورم کے مطابق کانفرنس کے دوران ’’استقبال محرم‘‘ کے عنوان سے ایک نشست شامل کی گئی ہے، جس میں ملک بھر سے ماتمی سنگتوں کو دعوت دی گئی ہے، جو استقبال محرم کی اس نشست میں ماتم اور نوحہ خوانی کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ لاہور میں 13 جون کو مینار پاکستان گراؤنڈ میں ہونیوالی ’’شہید اُمت کانفرنس‘‘ میں ایک اور نشست کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ ترجمان اتحاد اُمت فورم کے مطابق کانفرنس کے دوران ’’استقبال محرم‘‘ کے عنوان سے ایک نشست شامل کی گئی ہے، جس میں ملک بھر سے ماتمی سنگتوں کو دعوت دی گئی ہے، جو استقبال محرم کی اس نشست میں ماتم اور نوحہ خوانی کریں گے۔ ترجمان کے مطابق ملک بھر سے معروف نوحہ خواں حضرات کو بھی خصوصی طور پر دعوت دی گئی ہے جبکہ ماتمی سنگتیں بھی دُختر رسولؑ کو پرسہ دیں گی۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے باقاعدہ ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو نوحہ خواں حضرات اور ماتمی انجمنوں کے سالاروں سے رابطے کر رہی ہے اور اس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ماتمی سنگتوں کے سالاروں اور نوحہ خواں حضرات نے اظہار تشکر کیا ہے کہ انہیں بھی اس عظیم اجتماع میں شرکت کا موقع دیا جا رہا ہے۔ کانفرنس میں نوحہ خواں حضرات نوحہ خوانی کیساتھ شہیدِ امت آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو بھی اپنے اپنے انداز میں خراج عقیدت پیش کریں گے۔