پاکستان بیت المال ریجنل آفس لاہور میں آن لائن تربیتی سیشن کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
لاہور( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 جولائی 2025ء ) منیجنگ ڈائریکٹر پاکستان بیت المال کی ہدایات کی تعمیل میں، پاکستان بیت المال ریجنل آفس لاہور کی جانب سے ایک کامیاب آن لائن زوم تربیتی سیشن کا انعقاد کیا گیا۔ یہ سیشن ڈائریکٹر ریجنل آفس لاہور محمد ظہیر کی زیر صدارت اور تربیت میں منعقد ہوا، جنہوں نے بطور ماسٹر ٹرینر فرائض انجام دیے۔
تربیتی سیشن کا مقصد نظام کی مؤثریت میں اضافہ اور عملے کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں بہتری لانا تھا۔ سیشن میں درج ذیل اہم موضوعات پر روشنی ڈالی گئی: 1.وہسل بلوئنگ (Whistle Blowing)2. مفادات کا ٹکراؤ (Conflict of Interest) 3. تنظیمی رویہ (Organizational Behaviour) یہ سیشن دیانت داری، شفافیت، اور تنظیمی اخلاقیات کے فروغ کے لیے منعقد کیا گیا تاکہ پاکستان بیت المال کی مؤثر اور جواب دہ عوامی خدمت کے مشن کو مزید تقویت دی جا سکے۔
(جاری ہے)
عملے کے اراکین نے بھرپور شرکت کی اور روزمرہ کے امور سے متعلق عملی مثالوں اور بصیرت سے فائدہ اٹھایا۔ تربیت کے اختتام پر اوپن سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا، جس میں شرکاء کو ماسٹر ٹرینر سے براہ راست بات چیت، تصورات کی وضاحت، اور اپنی آراء کا اظہار کرنے کا موقع فراہم کیا گیا۔ اس انٹرایکٹو حصے نے تربیت کی افادیت میں خاطر خواہ اضافہ کیا اور تنظیم کے اندر کھلے مکالمے کو فروغ دیا۔ ریجنل آفس نے منیجنگ ڈائریکٹر کی وژنری قیادت میں ادارہ جاتی کارکردگی اور نظم و نسق کے معیار کو مزید بلند کرنے کے لیے ایسے تربیتی اقدامات کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے پاکستان بیت المال
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔