آرٹس کونسل آف پاکستان میں ورلڈ کلچر فیسٹیول سے متعلق تقریب کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں ورلڈ کلچر فیسٹیول کے حوالے سے پر وقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی جانب سے ”ورلڈ کلچر فیسٹیول 2025ء“ کا آغاز ہونے جا رہا ہے، اس حوالے سے پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ اور کمشنر کراچی سید حسن نقوی نے فیسٹیول کی تفصیلات اور تیاریوں سے آگاہ کیا۔ورلڈ کلچر فیسیٹول اس لحاظ سے اہم ہے کہ اس میں 6 براعظموں سے 141 ممالک کے فنکار شرکت کریں گے جبکہ ایک ہزار سے زائد فنکار پرفارمنس دیں گے، اس موقع پر صدر آرٹس کونسل احمد شاہ کا کہنا تھا کہ آرٹس کونسل ایک بین الاقوامی ادارہ بن چکا ہے جہاں دنیا بھر سے فنکار اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔کمشز کراچی سید حسن نقوی نے کہا کہ ہم نے کراچی شہر کا مثبت چہرہ دنیا کو دکھانا ہے، آنے والے مہمان پاکستان کا اچھا تاثر لے کر جائیں گے۔کراچی میں ہونے والا یہ بین الاقوامی ثقافتی میلہ پاکستانیوں کو دنیا بھر کی ثقافتوں سے روشناس کروانے کیلئے بہترین پلیٹ فارم ہے جس میں تھیٹر پرفارمنس، پینٹنگز، موسیقی اور ڈانس پرفارمنس سمیت رنگا رنگ پروگراموں کو شامل کیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: آرٹس کونسل
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔