Islam Times:
2026-07-24@01:41:46 GMT

گورنر کاٹیج پاراچنار میں تقریب کا انعقاد

اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT

ضلعی انتظامیہ اور محکمہ تعلیم کی جانب سے گورنر کاٹیج پاراچنار میں ایک تقریب منعقد ہوئی، جس میں سرکاری تعلیمی اداروں کے سربراہان اساتذہ اور طلبہ نے شرکت کی۔ چھوٹی تصاویر تصاویر کی فہرست سلائیڈ شو

گورنر کاٹیج پاراچنار میں تقریب کا انعقاد

گورنر کاٹیج پاراچنار میں تقریب کا انعقاد

گورنر کاٹیج پاراچنار میں تقریب کا انعقاد

گورنر کاٹیج پاراچنار میں تقریب کا انعقاد

گورنر کاٹیج پاراچنار میں تقریب کا انعقاد

گورنر کاٹیج پاراچنار میں تقریب کا انعقاد

گورنر کاٹیج پاراچنار میں تقریب کا انعقاد

گورنر کاٹیج پاراچنار میں تقریب کا انعقاد

گورنر کاٹیج پاراچنار میں تقریب کا انعقاد

گورنر کاٹیج پاراچنار میں تقریب کا انعقاد

گورنر کاٹیج پاراچنار میں تقریب کا انعقاد

اسلام ٹائمز۔ گورنر کاٹیج پاراچنار میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں تعلیمی میدان میں بہترین کارکردگی پر طلبہ اور اساتذہ میں انعامات تقسیم کئے گئے۔ تفصیلات کے مطابق ضلعی انتظامیہ اور محکمہ تعلیم کی جانب سے گورنر کاٹیج پاراچنار میں ایک تقریب منعقد ہوئی، جس میں سرکاری تعلیمی اداروں کے سربراہان اساتذہ اور طلبہ نے شرکت کی۔ تقریب میں تعلیمی میدان میں بہترین کردگی کے حامل طلبہ اور اساتذہ میں ضلعی انتظامیہ اور محکمہ تعلیم کی جانب سے ایوارڈز تقسیم کئے گئے۔.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت