کراچی:

خواجہ سرا کمیونٹی کے تحت ہفتہ کو برنس گارڈن کراچی میں ہیجڑا فیسٹول 2025 منایا گیا ۔اس موقع پر خواجہ سراکمیونٹی نے اپنے مطالبات کے حق میں ریلی نکالی ۔ریلی میں خواجہ سرائوں نے دھمال ڈالی ۔ریلی پنڈال میں پہنچ کر اختتام پزیر ہوئی ۔ہیجڑا فیسٹول میں خواجہ سرائوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

خواجہ سرا کمیونٹی کے رہنما کامی چوہدری نے بتایا کہ پاکستان کی خواجہ سرا کمیونٹی بھی اس ہی معاشرہ کا حصہ ہے۔لیکن افسوس ہے کہ ہمیں شناخت حاصل نہیں ہے۔ہمیں شہری  نہیں سمجھا جاتا ہے۔ہمیں عزت نہیں دی جاتی۔ روزگار کی سہولت نہیں ہے۔

 انہوں نے کہا کہ یہ تیسرا ہیجڑا فیسٹول ہے۔یہ فیسٹول بھی کامیاب رہا ہے۔کامی چوہدری اور  ڈاکٹر سارہ گِل نے بتایا کہ اس سال خواجہ سرا کمیونٹی نے اپنے فیسٹیول کا تھیم ماحولیات کے تحفظ سے منسوب کیا ہے۔ہم کھڑے ہیں اپنی شناخت، وقار، آزادی اور اپنی زمین کے لیے- انہوں نے مزید کہا کہ ماحولیات کی تباہ کاریوں سے خواجہ سرا کمیونٹی بھی متاثر ہوتی ہے۔ لہٰذاخواجہ سرا کمیونٹی بھی ماحولیات کے تحفظ کی جدوجہد  میں پوری قوم اور پوری دنیا کے ساتھ کھڑی ہے۔

انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ ماحول کے تحفظ کے لیے شجر کاری کریں۔درخت لگائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہیجڑا فیسٹیول کے انعقاد کا مقصد خواجہ سرا کمیونٹی کو خوشیوں کا ایک دن میسر کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی کمیونٹی کے مقاصد کو اجاگر کرنا ہے۔اس لیے یہ کامیاب ہیجڑا فیسٹول سے ہم نے واضح کیا ہے کہ یہ فیسٹیول کسی کے بھی خلاف نہیں ہے۔

 انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند سالوں سے خواجہ سرا افراد  کے خلاف تشدد  میں اضافہ ہوا ہے اور کئی خواجہ سرا  قتل بھی ہوچکے ہیں۔ اس طرح کے جرائم کی روک تھام کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے۔ٹرانسجینڈر افراد کے نمائندہ رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا خواجہ سرا افراد کے تحفظ اور ترقی و بہبود کے لیے  عملی اقدامات کیے جائیں۔انہوں نے  ملازمتوں میں خواجہ سرا افراد کے لیے مختص کوٹہ پر عملدرآمد  سمیت ڈیزاسٹر مینجمنٹ، ریلیف، رہائش اور صحت کے  پروگراموں میں بھی ٹرانس کمیونٹی کی شمولیت  کو لازمی قرار دینے کا مطالبہ کیا، انہوں نے حکومت سےمطالبہ کیا کہ پارلیمان اور صوبائی اسمبلیوں میں خواجہ سرائوں کی مخصوص نشستیں مقرر کرنے کے لیے فوری  قانون سازی کی جائے ۔

ہیجڑا فیسٹول میں خواجہ سرائوں نے اپنے فن کا بھی مظاہرہ کیا ۔کئی خواجہ سرائوں نے بینرز اٹھارکھے تھے جس پر درج تھا کہ ہم آزادی چاہتے ہیں۔ہم عزت اور وقار کے حقدار ییں۔تالی بدلو۔۔۔سوچ بھی بدل جائے گی۔خواجہ سرا کمیونٹی کی رہنماء بندیا رانا نے بتایا کہ اس فیسٹول میں معاشرے کے تمام طبقات شامل ہیں۔آج ہم عہد کرتے ہیں کہ ہم اپنے مسائل کے حل کے لیے پر امن جدوجہد جاری رکھیں گے۔ ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ ہمیں اس ہی معاشرے کا شہری سمجھا جائے۔خواجہ سرائوں کی حالیہ قتل کے واقعات میں پولیس نے کئی ملزمان پکڑے ہیں۔جس پر پولیس کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلدیاتی نظام کا حصہ بنے کے بعد اب جلد ہم پارلیمان کا حصہ بھی ہوں گے۔مزدور اور انسانی حقوق کے رہنماء ناصر منصور نے بتایا کہ یہ معاشرے کا مظلوم طبقہ ہے۔یہ ہیجڑا فیسٹول خواجہ سرا کمیونٹی کی  خوشی کا تہوار ہے۔خواجہ سرائوں کے مسائل حل کیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ خواجہ سرائوں کے مطالبات کے حل کے لیے ہم ان کے ساتھ ہیں۔

ماہر تعلیم پروفیسر ڈاکٹر ریاض شیخ نے کہا کہ خواجہ سرا تعلیم حاصل کریں۔ہر شعبہ میں تعلیم سے مقام بنائیں۔خواجہ سرا کی سیاسی رہنماء سعدیہ چوہدری نے بتایا کہ ہم سیاسی طور پر ہر پلیٹ فارم پر خواجہ سرائوں کے مسائل اجاگر کررہے ہیں۔تقریب میں خواجہ سرا کے مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے ایک ڈرامہ پیش کیا گیا۔

 خواجہ سرا رہنمائوں نے ہیجڑا فیسٹیول کے کامیاب انعقاد کے لیے بھرپور تعاون پر  بلدیہ اعظمیٰ، کراچی انتظامیہ، سندھ پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کا شکریہ ادا کیا۔ہیجڑا فیسٹول میں مختلف اسٹالز بھی لگائے گئے۔خواجہ سرائوں نے مختلف پودے بھی لگائے ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: خواجہ سرا کمیونٹی میں خواجہ سرائوں خواجہ سرائوں نے انہوں نے کہا کہ میں خواجہ سرا نے بتایا کہ فیسٹول میں نے اپنے کے تحفظ کے لیے

پڑھیں:

پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی

پاکستان کے سابق سفیر عمران علی کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اپنی بحریہ کے ذریعے حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے تو پاکستان بھی اس پر پورا اترتے ہوئے ویسا ہی کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘

وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی ریڈلائن ہے اور دونوں ممالک کے مابین دفاعی معاہدے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف ان کی سرزمین پر حملے کی صورت میں دفاعی تعاون ہوگا بلکہ پاکستان اس سلسلے میں سعودی عرب کی خواہشات پر پورا اترے گا۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی مستقل ’ریڈ لائن‘ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون محض معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کو پاکستان سے کسی بھی نوعیت کے تعاون کی ضرورت پیش آئی تو اسلام آباد اس کی توقعات پر پورا اترے گا۔

ایمبیسیڈر عمران علی نے وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان حالیہ رابطے کو اہم سفارتی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔

مزید پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کرسکتا ہے، وفاقی وزیر سردار یوسف

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اشتعال انگیزی کے باوجود انتہائی متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور پاکستان بھی یہی چاہتا ہے کہ مسلم دنیا مزید تقسیم نہ ہو۔ ان کے مطابق اگرچہ ایران کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے تاہم امریکا کی بعض کارروائیاں بھی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔

ایران کے پاس 2 ہفتوں کی مہلت

ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کشیدگی کم کرنے کے لیے صرف 2 ہفتوں کی مہلت ہے اور اگر تہران آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف ترک کرکے دوبارہ مذاکراتی عمل کی طرف آ جائے اور پاکستان کی ثالثی کو موقع دے تو خطے میں جاری بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

عمران علی نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان ایک قابل قبول مفاہمتی دستاویز تیار کرا چکا ہے اس لیے اب بھی اسلام آباد مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جذباتی فیصلوں کے بجائے وسیع تر علاقائی اور عالمی تناظر میں حکمت عملی اپنانا ہوگی۔

ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق ایران کی موجودہ پالیسی کا مقصد عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر دباؤ ڈال کر دنیا کو غزہ کے مسئلے پر متوجہ کرنا ہے تاہم یہ حکمت عملی اب الٹا اثر دکھا رہی ہے۔ ان کے بقول ریڈ سی اور باب المندب میں کشیدگی سے عالمی تجارت اور مسلم ممالک کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکہ پر مطلوبہ دباؤ نہیں پڑ رہا۔

عالمی جنگ کے امکانات نہیں

عالمی جنگ کے خدشات پر انہوں نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ کے امکانات کم ہیں کیونکہ روس اور چین براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے سے گریز کریں گے تاہم خلیجی خطے میں محدود علاقائی جنگ کا خطرہ موجود ہے خاص طور پر اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یورپ سمیت دنیا کی توانائی منڈی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا

ایران کے اندر ممکنہ رجیم چینج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس کا امکان کم ہے کیونکہ ریاستی کنٹرول مضبوط ہے، البتہ ایران کو جنگی کامیابی کے بیانیے کے بجائے امن اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔

پاکستان امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرے

پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ ثالثی کی کوششوں سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص ابھرا ہے تاہم اس سفارتی کامیابی کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اپنی سب سے بڑی معاشی ضرورت یعنی مالی خسارے کے لیے امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اب تک کتنے معاشی معاہدے اور اُن پر کیا پیشرفت ہوئی؟

ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق پاکستان کو اسلحے سے زیادہ معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور حالیہ سفارتی کردار کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاک سعودی دفاعی معاہدہ حوثی باغی سابق سفیر عمران علی سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن سعودی عرب کی خواہش

متعلقہ مضامین

  • راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
  • آپریشن سندور کی ناکامی پر بھارتی حکومت کا بیانیہ اپنے ہی شہریوں نے زمین بوس کر دیا 
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • مانچسٹر، پاکستانی قونصل خانہ کے اوقات میں اضافہ
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعے) کا دن کیسا رہے گا ؟
  • بدقسمت خواجہ سرا۔۔۔؟
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک