خواتین کی شرکت میں اضافہ پاکستان کی معیشت کومستحکم کر رہاہے.ویلتھ پاک
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔12 جولائی ۔2025 )پاکستان کی بڑھتی ہوئی فری لانس معیشت ڈیجیٹل مہارت کی نشوونما، جدت طرازی، اور خواتین کی شرکت میں اضافہ، جامع اقتصادی ترقی اور تکنیکی ترقی کو فروغ دیتی ہے پاکستان اکنامک سروے 2024-25 کے مطابق، حکومت کا وژن جدت اور انٹرپرینیورشپ کے ذریعے معاشی ترقی کو فروغ دے کر ملک کو علم پر مبنی معیشت میں تبدیل کرنے پر مرکوز ہے.
(جاری ہے)
55 ملین سے زیادہ تربیتی سیشنز منعقد کیے ہیں، جن میں خواتین کی تعداد کل تربیت پانے والوں کا 28فیصدہے یہ نمایاں شرکت پاکستان کی ڈیجیٹل افرادی قوت میں خواتین کے بڑھتے ہوئے کردار کو اجاگر کرتی ہے اس پروگرام نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں تک بھی اپنی رسائی کو بڑھایا ہے، جس سے بیرون ملک 50,000 سے زائد افراد کو تربیت دی گئی ہے ڈیجی سکل کا اثر اس کے فری لانسرز کی کمائی پر واضح ہے، جنہوں نے دسمبر 2024 تک مجموعی طور پر 1.65 بلین ڈالر کمائے ہیں.
ویلتھ پاک سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر ادریس احمد، ڈائریکٹر انوویشن اینڈ ریفارمز پرفارمنس مینجمنٹ اینڈ ریفارمز یونٹ گلگت بلتستان نے ڈیجیٹل پاکستان سپیڈ پروگرامنگ کمپیٹیشن 2025 کو پاکستان کے نوجوانوں کی تکنیکی صلاحیتوں کو آگے بڑھانے کے لیے ایک اہم اقدام کے طور پر اجاگر کیا. انہوں نے وضاحت کی کہ مقابلے کا فارمیٹ ایک محدود وقت کے اندر پیچیدہ مسائل کو حل کرنے کے لیے شرکا کو چیلنج کرنا کوڈنگ کی صلاحیت کو جانچنے سے باہر ہے یہ اہم اوصاف جیسے تجزیاتی سوچ، ٹیم ورک اور تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دیتا ہے، جو آج کی تیز رفتار ڈیجیٹل معیشت میں کامیابی کے لیے ضروری ہیں. انہوں نے کہا کہ ان مہارتوں کو فروغ دے کر، مقابلہ نہ صرف نوجوان پیشہ ور افراد کو صنعت کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے تیار کرتا ہے بلکہ جدت اور تعاون کے کلچر کو بھی پروان چڑھاتا ہے انہوں نے نوٹ کیا کہ یہ عالمی ٹیکنالوجی کے منظر نامے میں پاکستان کی پوزیشن کو مضبوط بنانے اور سٹارٹ اپس اور پیشہ ور افراد کی سرحدوں کو آگے بڑھانے کی حوصلہ افزائی کے لیے بہت ضروری ہے وسیع تر ڈیجیٹل ماحولیاتی نظام پر غور کرتے ہوئے، انہوں نے ملک کی آزاد معیشت میں نمایاں رفتار اور تبدیلی کی پیشرفت کے طور پر خواتین کی بڑھتی ہوئی شرکت پر روشنی ڈالی. انہوں نے کہا کہ اس ترقی کو برقرار رکھنے اور اس میں تیزی لانے کے لیے حکومت کی مسلسل حمایت اور ٹارگٹڈ سکل ڈویلپمنٹ اقدامات انتہائی اہم ہیں ان کے مطابق، قابل رسائی تربیتی پروگراموں اور مسابقتی پلیٹ فارمز کے ذریعے متنوع ٹیلنٹ کو بااختیار بنانا ایک ایسا ماحول پیدا کرتا ہے جہاں جنس یا جغرافیہ سے قطع نظر جدت طرازی پروان چڑھ سکتی ہے. انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس طرح کی جامع کوششیں اس بات کو یقینی بنائیں گی کہ فری لانس سیکٹر ملک کی اقتصادی ترقی میں متحرک کردار ادا کرتا رہے انہوں نے رائے دی کہ ان اقدامات سے علم پر مبنی معیشت کی تعمیر میں مدد ملے گی جہاں مرد اور عورت دونوں یکساں طور پر حصہ لے سکیں اور قیادت کر سکیں. انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل اسکلز اور انٹرپرینیورشپ میں پائیدار سرمایہ کاری پاکستان کو عالمی ڈیجیٹل دور میں ایک مسابقتی کھلاڑی کے طور پر پوزیشن میں لائے گی، جو آنے والے سالوں میں معاشی ترقی اور سماجی ترقی کو آگے بڑھائے گی.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے پاکستان کی خواتین کی انہوں نے ترقی کو کو فروغ کے لیے
پڑھیں:
بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث معاشی بحران نے جنم لیا ہے اور موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت صرف پیپلز پارٹی کے پاس ہے، گلگت بلتستان کے عوام 7 جون کو تیر پر مہر لگائیں۔
اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی جانب سے امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو قابل فخر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کاوشیں کامیاب ہوں گی۔
مزید پڑھیں: کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، نواز شریف کا گلگت میں خطاب
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہاکہ ان کی جماعت ملک کے پسماندہ اور محروم طبقات کی حقیقی نمائندہ ہے۔ ایسی ترقی اور معاشی پالیسی کا کیا فائدہ جس میں امیر مزید امیر اور غریب مزید مشکلات کا شکار ہو جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کا واحد ایسا ادارہ ہے جو براہ راست مستحق خاندانوں تک پہنچتا ہے اور اس پروگرام کے خلاف ہونے والی سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بدقسمتی اس ملک کی ہے کہ ہمارے سیاست دان ایسے ہیں کہ جب معاشی حالات خراب ہوتے ہیں تو وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہم اپنے امیر دوستوں کی سبسڈی کیسے ختم کریں، وہ یہ نہیں سوچتے کہ کاروباری طبقہ کتنا ٹیکس دے رہا ہے، وہ سیدھا اس پر پہنچتے ہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرو، مگر ہم یہ… pic.twitter.com/ioZikOPLZU
— WE News (@WENewsPk) June 2, 2026
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض حکمران عناصر اس پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی اسے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور آئندہ بجٹ میں اس کے فنڈز میں اضافے کے لیے وزیراعظم سے بات کی جائے گی۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی جبکہ میزائل ٹیکنالوجی کے فروغ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا کردار نمایاں رہا۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں گلگت بلتستان کو شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا لیکن اس خطے کو موجودہ شناخت صدر آصف علی زرداری نے دی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بلتستان کی سرزمین سے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا اعلان کیا تھا۔
انہوں نے کہاکہ اگر 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات گلگت بلتستان کو بھی منتقل کر دیے جائیں تو خطے کے متعدد مسائل حل ہو سکتے ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ حق حاکمیت کے بعد عوام کو حق ملکیت بھی ملنا چاہیے اور اسلام آباد کو تسلیم کرنا ہوگا کہ گلگت بلتستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق مقامی آبادی کا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، نہ گلگت بلتستان اور نہ ہی پاکستان حقیقی ترقی کر سکتا ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے سندھ حکومت کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو گھر فراہم کیے گئے اور یہی عوامی خدمت پیپلز پارٹی کی سیاست کا بنیادی محور ہے۔
ان کے مطابق پارٹی ہمیشہ عام آدمی، مزدور اور محروم طبقات کے حقوق کی سیاست کرتی آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کو بینظیر کارڈ کے ذریعے عملی شکل دی، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دنیا کے کئی ممالک نے قابل تقلید ماڈل قرار دیا۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مسلم دنیا میں ایٹمی صلاحیت رکھنے والا واحد ملک پاکستان ہے اور اس صلاحیت کا سہرا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج بھی گڑھی خدا بخش سے پاکستان کے دفاع کی روایت جڑی ہوئی ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں غیر ملکی ممالک کو پاکستان میں اڈے حاصل تھے، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ان اڈوں کو بند کروا دیا۔
انہوں نے سی پیک کے تحت تھرکول منصوبے کو سب سے کامیاب منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو فراہم کی گئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، جبکہ دیگر سیاسی قوتیں لوگوں کو بے روزگار کرنے کی پالیسی اپناتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت غریب نوجوانوں کو روزگار فراہم کرکے معاشی طور پر مضبوط بنانا چاہتی ہے۔
مزید پڑھیں: کسی بھی نئی آئینی ترمیم میں گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے، بلاول بھٹو
چیئرمین پیپلز پارٹی نے سندھ میں سیلاب کے بعد بحالی کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پورا صوبہ پانی میں ڈوب گیا ہو، تاہم حکومت 20 لاکھ متاثرہ گھروں کی تعمیر کر رہی ہے اور اتنے ہی خاندانوں کو مالکانہ حقوق کے ساتھ رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سڑکوں کی تعمیر سے پہلے متاثرین کو گھر دیے جائیں۔ اس منصوبے کے نتیجے میں قریباً 10 لاکھ افراد کو روزگار ملا۔
انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام سے اپیل کی کہ 7 جون کو تیر کے انتخابی نشان پر مہر لگائیں، پیپلز پارٹی یہاں بھی سندھ طرز کے عوامی فلاحی منصوبے متعارف کرائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلاول بھٹو چیئرمین پیپلز پارٹی گلگت بلتستان الیکشن وی نیوز