ایک سے زائد بجلی کے میٹر رکھنے والوں کیلئے بُری خبر
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
اسلام آباد(ممتاز نیوز)حکومت نے بجلی کے ایک سے زائد سنگل میٹرز رکھنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمپنیوں کو نصب میٹرز کی تعداد اور صارفین کا مکمل ریکارڈ مرتب کرنے کی ضرورت ہوگی۔
اس اقدام کا مقصد ایسے صارفین کی نشاندہی کرنا ہے جنہوں نے اپنے کاروبار یا گھروں میں غیر قانونی طور پر ایک سے زیادہ میٹرز نصب کرائے ہیں۔ ان میٹرز کو پروٹیکٹو کیٹیگری کے تحت نصب کیا جائے گا، جس پر نیپرا قوانین کے مطابق کارروائی کی جا سکے گی۔ ان قوانین کے تحت، اگر کسی صارف نے غیر قانونی طور پر اضافی میٹرز نصب کرائے ہیں، تو انہیں نیپرا کے ضوابط کے مطابق جرمانہ یا دیگر سخت سزائیں دی جا سکتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پاور پلاننگ مانیٹرنگ کمپنی کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق، تمام تقسیم کار کمپنیوں کو جلد از جلد میٹرز کے ریکارڈ کی مکمل تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اس کے بعد وفاقی حکومت اس ریکارڈ کا جائزہ لے کر آئندہ کی کارروائی کے بارے میں فیصلہ کرے گی۔ اس کارروائی کا مقصد بجلی کے میٹرز کے غیر قانونی استعمال کو روکنا اور بجلی کے صارفین کو مناسب اور شفاف خدمات فراہم کرنا ہے۔
اس کے علاوہ، حکومت نے واضح کیا ہے کہ نیپرا قوانین کے تحت نصب میٹرز پر کسی قسم کی کارروائی نہیں کی جا سکے گی، یعنی اگر میٹر کسی قانونی عمل کے تحت نصب کیا گیا ہو، تو اس پر کوئی بھی کارروائی کرنا غیر قانونی ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے مطابق بجلی کے کے تحت
پڑھیں:
میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
جنوبی کوریا(southkorea) میں ایک معروف ریسٹورنٹ کے مالک کے خلاف میٹھے پکوانوں کی سجاوٹ کے لیے چیونٹیاں استعمال کرنے پر قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوبی کورین استغاثہ نے عدالت سے ریسٹورنٹ کے مالک کو ایک سال قید اور تقریباً 13 ہزار 510 امریکی ڈالر جرمانے کی سزا دینے کی استدعا کی ہے۔
ریسٹورنٹ مالک نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا کہ اس نے سوئٹ ڈشز کی ٹاپنگ کے لیے محدود پیمانے پر چیونٹیاں استعمال کیں، اس حوالے سے گاہکوں کو پہلے ہی آگاہ کر دیا جاتا تھا۔
مزیدپڑھیں:ورلڈ کپ فاتح ہسپانوی فٹبالرز کو وزن کے برابر ٹماٹر انعام میں مل گئے
تفتیشی حکام کے مطابق گزشتہ چار برسوں کے دوران امریکا اور تھائی لینڈ سے درآمد کی گئی تقریباً 49 ہزار چیونٹیاں مختلف پکوانوں، خصوصاً میٹھے ڈشز، میں استعمال کی گئیں۔
رپورٹس کے مطابق جنوبی کوریا کے موجودہ قوانین کے تحت چیونٹیاں ان 10 کیڑوں میں شامل نہیں ہیں جنہیں انسانی خوراک کے طور پر استعمال کی اجازت حاصل ہے، اسی بنیاد پر ریسٹورنٹ مالک کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔
عدالت اس مقدمے کا فیصلہ 2 ستمبر کو سنائے گی، جس کے بعد یہ واضح ہوگا کہ ریسٹورنٹ مالک کو سزا دی جاتی ہے یا نہیں۔