سید پور گاؤں میں سی ڈی اے کا بڑا آپریشن، درجنوں غیر قانونی مکانات خالی کرا لیے گئے
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
سید پور گاؤں میں سی ڈی اے کا بڑا آپریشن، درجنوں غیر قانونی مکانات خالی کرا لیے گئے WhatsAppFacebookTwitter 0 12 July, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز) وفاقی ترقیاتی ادارے (سی ڈی اے) نے وفاقی دارالحکومت کے گاؤں سید پور میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف بڑا آپریشن کیا، جس کے دوران متعدد غیر قانونی رہائش گاہیں خالی کرا لی گئیں۔
ترجمان سی ڈی اے کے مطابق آپریشن چیئرمین سی ڈی اے اور چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا کی ہدایت پر شروع کیا گیا۔ آپریشن میں سی ڈی اے کی انفورسمنٹ ٹیم اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (ڈی ایم اے) کی ٹیموں نے حصہ لیا۔
ترجمان نے بتایا کہ جن گھروں کے خلاف کارروائی کی گئی، انہیں پہلے نوٹسز جاری کیے گئے تھے، تاہم نوٹسز کے باوجود غیر قانونی گھر خالی نہیں کیے گئے جس پر قانون کے مطابق گھروں کو خالی کروایا گیا۔
بعض رہائشیوں نے علاقے میں ہونے والے اعلانات کے بعد رضاکارانہ طور پر گھر خالی کر دیے۔
سی ڈی اے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ آپریشن کی نگرانی ڈائریکٹر ڈی ایم اے اور سی ڈی اے کی ڈپٹی ڈی جی انفورسمنٹ ڈاکٹر انعم فاطمہ نے کی۔ ترجمان کے مطابق غیر قانونی تعمیرات کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر عمل کیا جا رہا ہے اور مستقبل میں بھی اس نوعیت کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپشاور ہائی کورٹ کا اعظم سواتی کو نیب تفتیش جوائن کرنے کا حکم پشاور ہائی کورٹ کا اعظم سواتی کو نیب تفتیش جوائن کرنے کا حکم سکیورٹی فورسز کے شہدا کے لئے لفظ ’ہلاک‘ استعمال کرنے پر پابندی عائد بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ ، مسلم ممالک کیخلاف جارحیت کی منصوبہ بندی جاری بھارت کو ایک بار پھر منہ کی کھانی پڑی، پاکستانی ایڈیشنل فارن سیکریٹری نے تارے دکھا دیے بلوچستان بس واقعہ: شہید بیٹے کی لاش دیکھ کر شدت غم سے والد بھی وفات پاگئے ڈی جی آئی ایس پی آر کا دورہ مظفر آباد، سول سوسائٹی کے ساتھ خصوصی نشستCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سی ڈی اے
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک