—فائل فوٹو

سانحہ سوات کی انکوائری رپورٹ میں پولیس کے دفعہ 144 پر عمل نہ کروانے اور 1122 سوات کے ایمرجنسی افسر کے بنا بتائے چھٹی پر جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ 

ذرائع کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پولیس دفعہ 144 پر عمل درآمد کرانے میں ناکام رہی جبکہ ریسکیو 1122 سوات کے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی افسر بغیر بتائے چھٹی پر تھے۔

رپورٹ میں فرائض سے غفلت کے مرتکب افراد کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔ رپورٹ میں سانحے کے وقت موجود ڈی جی ریسکیو 1122 کے خلاف کارروائی کی سفارش بھی کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے پشاور ہائیکورٹ نے سانحہ دریائے سوات پر تحریری حکم نامہ جاری کر دیا دریائے سوات میں 2010ء کے سیلاب بعد خریدا گیا ’ارلی فلڈ وارننگ سسٹم‘ تاحال نصب نہیں کیا جاسکا

اس کے علاوہ رپورٹ میں ڈپٹی کمشنر سوات، سابق ایڈیشنل ڈی سی ریلیف اور 2 غوطہ خوروں کے خلاف بھی کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔

ٹاؤن میونسپل افسر (ٹی ایم او) بابو زئی سوات اور محکمہ آبپاشی گیج ریڈر، انچارج ریسکیو 1122 کنٹرول روم سوات، ڈپٹی ڈائریکٹر نارتھ ایریگشن اور محمکہ آبپاشی کے 2 افسران کے خلاف بھی کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے ذمے داران کے خلاف کارروائی کی منظوری دے دی ہے، متعلقہ محکمے غفلت کے مرتکب اہلکاروں کے خلاف کارروائی کریں گے۔

یاد رہے کہ27 جون کو دریائے سوات میں سیلاب میں پھنس کر 13 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: کارروائی کی سفارش کے خلاف کارروائی رپورٹ میں کی گئی ہے

پڑھیں:

ماہرینِ صحت کی دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 24 جولائی2026ء) ماہرینِ صحت نے دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عادت نہ صرف متوازن غذا کی جانب اہم قدم ہے بلکہ بھوک پر قابو پانے، توانائی برقرار رکھنے اور مجموعی صحت کو بہتر بنانے میں بھی مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق صحت مند طرزِ زندگی کا مقصد صرف تیزی سے وزن کم کرنا نہیں بلکہ ایسی پائیدار غذائی عادات اپنانا ہے جن پر طویل عرصے تک آسانی سے عمل کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ دوپہر کے کھانے میں متوازن سلاد شامل کرنے سے جسم کو فائبر، وٹامنز، منرلز اور دیگر ضروری غذائی اجزا بیک وقت حاصل ہوتے ہیں، جو بہتر صحت کے لیے نہایت اہم ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ایک مکمل اور متوازن سلاد صرف سبز پتوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس میں ثابت مونگ دال، چنے، کھیرا، ٹماٹر، پیاز، گاجر، شملہ مرچ، کینوا، ایووکاڈو، مالٹے کے قتلے، انار کے دانے اور کچے آم جیسے غذائیت سے بھرپور اجزا بھی شامل کیے جا سکتے ہیں۔

(جاری ہے)

ذائقے کے لیے نمک، کالی مرچ، لیموں کا رس یا سرکہ استعمال کیا جا سکتا ہے، جبکہ پروٹین کی ضرورت پوری کرنے کے لیے گرل کیا ہوا پنیر، سویا یا دیگر صحت بخش پروٹین ذرائع شامل کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ماہرین نے کہا کہ اگر ایک ہی قسم کا سلاد روزانہ کھایا جائے تو وقت کے ساتھ اکتاہٹ پیدا ہو سکتی ہے، اس لیے مختلف سبزیوں، پھلوں اور دیگر اجزا میں تبدیلی کرتے رہنا چاہیے تاکہ ذائقے کے ساتھ غذائی تنوع بھی برقرار رہے۔

طبی ماہرین کے مطابق دوپہر کے کھانے میں سلاد شامل کرنے سے زیادہ دیر تک پیٹ بھرنے کا احساس رہتا ہے، غیر ضروری اسنیکس اور بار بار کھانے کی خواہش میں کمی آتی ہے، جبکہ دوپہر کے کھانے کے بعد محسوس ہونے والی سستی بھی کم ہو سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں روزمرہ سرگرمیوں کے لیے جسمانی توانائی اور چستی برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ وزن میں کمی کا عمل ہر فرد میں مختلف ہو سکتا ہے، تاہم متوازن غذا کو مستقل معمول بنانے سے جسمانی ساخت میں مثبت تبدیلیاں آ سکتی ہیں، کپڑوں کی فٹنگ بہتر محسوس ہو سکتی ہے اور مجموعی صحت میں بتدریج بہتری آتی ہے۔

ماہرین نے کہا کہ صحت بخش غذائی عادات نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب کرتی ہیں اور انسان کے اعتماد میں اضافہ کرتی ہیں۔ ان کے مطابق صحت مند طرزِ زندگی کا مطلب پسندیدہ کھانوں سے مکمل پرہیز نہیں بلکہ اعتدال، توازن اور مستقل مزاجی کے ساتھ غذائیت سے بھرپور خوراک کو روزمرہ معمول کا حصہ بنانا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • حساس معلومات لیک ہونے کا معاملہ، جے ڈی وینس کے قریبی سکیورٹی اہلکار کے خلاف تحقیقات
  • گل پلازہ انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر نہ لانے کا فیصلہ، شفافیت اور تفتیشی عمل پر نئی بحث
  • سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
  • ماہرینِ صحت کی دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش
  • عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی کا اپنی قبر تیار کرنے کا انکشاف
  • آپریشن سندور کی ناکامی پر بھارتی حکومت کا بیانیہ اپنے ہی شہریوں نے زمین بوس کر دیا 
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش