سوات(نیوز ڈیسک) سوات کی سرزمین ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گئی ہے، مگر اس بار وجہ خوش آئند نہیں بلکہ باعث تشویش ہے۔ ڈی جی اپر سوات ڈویلپمنٹ اتھارٹی، عدنان ابرار کو صرف اس “جُرم” پر ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا کہ انہوں نے اراکین اسمبلی سے سرکاری گاڑیاں واپس مانگنے کی ہمت کی۔ یہ واقعہ پاکستانی بیوروکریسی اور سیاسی طبقے میں بدعنوانی، اختیار کے ناجائز استعمال، اور جوابدہی کے فقدان کی ایک واضح تصویر پیش کرتا ہے۔

معاملہ کچھ یوں ہے کہ سوات کے ایک ایم این اے اور ایک ایم پی اے نے کروڑوں روپے مالیت کی دو سرکاری گاڑیاں اپنی ذاتی استعمال کے لیے حاصل کر رکھی تھیں۔ میڈیا میں ان خبروں کے شائع ہونے کے بعد چیف سیکرٹری کی ہدایت پر ڈی جی اپر سوات کو ان گاڑیوں کی واپسی یقینی بنانے کا حکم دیا گیا۔ عدنان ابرار نے حکم پر عمل کرتے ہوئے جب متعلقہ اراکین اسمبلی کو فون کر کے گاڑیاں واپس کرنے کی بات کی، تو انہیں سخت انکار کا سامنا کرنا پڑا۔

اس انکار کے فوراً بعد ہی ڈی جی عدنان ابرار کا اچانک تبادلہ کر دیا گیا اور انہیں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن میں رپورٹ کرنے کا حکم دے دیا گیا۔ ان کے عہدے کو خالی کر کے انہیں “افسر بکار خاص” مقرر کر دیا گیا — جو کہ دراصل ایک غیر فعال حیثیت ہے۔

یہ واقعہ نہ صرف سوالات کو جنم دیتا ہے بلکہ ہمارے پورے گورننس سسٹم پر ایک بدنما داغ بھی بن چکا ہے۔ اس واقعے سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ بعض سیاسی شخصیات قانون سے بالاتر سمجھتی ہیں، اور جب کوئی افسر قانون پر عمل کروانے کی کوشش کرتا ہے، تو اسے اس کی سزا ملتی ہے۔

ایسا پہلی بار نہیں ہوا۔ پاکستان میں بیوروکریسی اور ایماندار افسران کو اکثر ایسی ہی صورت حال کا سامنا رہتا ہے۔ لانگ ٹیل کی ورڈز جیسے “سرکاری گاڑیاں واپس لینے کا معاملہ”، “ڈی جی عدنان ابرار کا تبادلہ”، اور “اراکین اسمبلی کا اختیارات کا ناجائز استعمال” — اس مسئلے کے گرد سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں زیر بحث ہیں۔

اس تمام تر صورتحال میں سب سے زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ جو افسر قانون کے مطابق کام کرنا چاہتا ہے، وہی نشانے پر آ جاتا ہے۔ میڈیا، سول سوسائٹی اور عام شہریوں کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے واقعات کو نظر انداز نہ کریں بلکہ آواز بلند کریں تاکہ آئندہ کسی ایماندار افسر کو اپنے فرض کی ادائیگی پر سزا نہ دی جا سکے۔

اس واقعے کے کئی اثرات ہو سکتے ہیں:

دیگر ایماندار افسران کو خوف ہوگا کہ اگر انہوں نے قانون کی پاسداری کی، تو ان کا بھی یہی انجام ہوگا۔

سیاسی اثر و رسوخ اور طاقتور حلقے مزید بے لگام ہو سکتے ہیں۔

عوام کا اعتماد حکومتی اداروں اور احتسابی نظام سے مکمل ختم ہو سکتا ہے۔

یہ وقت ہے کہ حکومت، خصوصاً صوبائی اور وفاقی سطح پر فیصلہ ساز ادارے ایسے واقعات پر سخت نوٹس لیں۔ عدنان ابرار جیسے افسران کو تحفظ فراہم کرنا ریاست کی اولین ذمہ داری ہونی چاہیے، نہ کہ انہیں سزا دینا۔

Post Views: 7.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: اراکین اسمبلی سرکاری گاڑیاں گاڑیاں واپس دیا گیا

پڑھیں:

صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال

کراچی:

صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی بلاول ہاؤس کراچی میں ملاقات ہوئی جس میں بلوچستان میں امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور صوبے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

صدر ِمملکت نے بلوچستان میں ترقی کے عمل کو مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور صوبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

انہوں نے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت کی۔

صدر مملکت نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی، امن و امان کی صورتحال کو بہتر کرنے، عوامی فلاح اور صوبے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے تمام متعلقہ ادارے مربوط انداز میں کام کریں۔

ملاقات میں صوبائی وزیرِ آبپاشی صادق عُمرانی، وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی ظہور بلیدی، وزیرِ صحت میر بخت کاکڑ، وزیرِ لائیو اسٹاک سردار فیصل جمالی، وزیرِ صنعت و تجارت کویار ڈومکی، وزیرِ محنت غلام رسول عُمرانی اور پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے سینئر نائب صدر میر علی حسن زہری شریک تھے۔

متعلقہ مضامین

  • صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
  • ’حکومت مان گئی‘ پٹرول ڈیلرز نے 15 روز کے لیے ملک گیر ہڑتال کی کال واپس لے لی
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن