Islam Times:
2026-07-24@09:34:57 GMT

سانحہ سوات کے ورثاء میں امدادی چیکس تقسیم کر دیئے گئے

اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT

سانحہ سوات کے ورثاء میں امدادی چیکس تقسیم کر دیئے گئے

صوبائی وزیر بلدیات پنجاب کا سانحہ سوات کے ورثاء میں امدادی چیکس تقسیم کرنے کے موقع پہ کہنا تھا کہ مالی امداد مرحومین کا ازالہ نہیں، دل آج بھی خون کے آنسو رو رہا ہے، ہنستے بستے خاندان انتظامیہ کی کوتاہی اور بد انتظامی کی وجہ سے اُجڑ گئے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز کی طرف سے سانحہ سوات کے ورثاء میں امدادی چیکس تقسیم کر دیئے گئے۔ سانحہ سوات میں 10 جاں بحق افراد کے تین ورثا کو 80، 80 اور 40 لاکھ روپے مالیت کے چیک دیئے گئے، چیک صوبائی وزیر بلدیات میاں ذیشان رفیق اور رکن قومی اسمبلی سیدہ نوشین افتحار نے دیئے۔ صوبائی وزیر میاں ذیشان رفیق نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز ہر مشکل میں اپنے عوام کے ساتھ کھڑی ہوتی ہیں۔

ذیشان رفیق نے کہا کہ مالی امداد مرحومین کا ازالہ نہیں، دل آج بھی خون کے آنسو رو رہا ہے، ہنستے بستے خاندان انتظامیہ کی کوتاہی اور بد انتظامی کی وجہ سے اُجڑ گئے۔ صوبائی وزیر نے ہکا کہ دوسرے صوبوں کی حکومتوں کو مریم نواز شریف سے سیکھنا چاہیے، 2 گھنٹے تک مرحومین مدد کیلئے پکارتے رہے مگر ان کو بچانے کوئی نہ آیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: سانحہ سوات

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • بلوچستان کی ترقی قومی ترجیح، وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے تاریخی فیصلے کیے، وزیراعظم شہباز شریف
  • خیبرپختونخوا میں بارشوں اور سیلاب سے 28 افراد جاں بحق، 29 زخمی
  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  •  صدر آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا