بھارت کی کئی ریاستوں میں تعلیمی ادارے اچانک بند کردیے گئے، سبب کیا نکلا؟
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
بھارت میں سمندری طوفان ’مونتھا‘ کے سبب متعدد ریاستوں میں اسکولوں کو حفاظتی اقدامات کے تحت بند کر دیا گیا ہے۔
شدید بارشوں، تیز ہواؤں اور سیلابی صورتحال کے باعث انتظامیہ نے طلبہ و اساتذہ کی حفاظت کے پیش نظر عارضی تعطیلات کا اعلان کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، آندھرا پردیش، اڈیشہ، جموں، تمل ناڈو اور مغربی بنگال کے کئی اضلاع میں اسکول بند کر دیے گئے ہیں۔
چنئی میں اسکول 30 اکتوبر تک بند رہیں گے۔
اوڈیشہ میں بھی تمام تعلیمی ادارے 30 اکتوبر تک بند رکھنے کا حکم جاری ہوا ہے، تاہم امکان ہے کہ تعطیلات جمعرات کے بعد بھی بڑھا دی جائیں۔
آندھرا پردیش کے اضلاع بپتلا، وائی ایس آر کڈپہ، پرکاشم، نیلور، تروپتی اور اننمیا میں اسکول بند ہیں۔
جبکہ جموں میں شدید بارش اور فلیش فلڈز (اچانک آنے والے سیلاب) کے باعث اسکولوں میں ہنگامی تعطیل کی گئی ہے۔
سیلاب اور بارشوں سے متاثرہ علاقےمحکمہ موسمیات کے مطابق، سمندری طوفان ’مونتھا‘ نے مشرقی اور جنوبی بھارت کے کئی ساحلی علاقوں میں تیز بارشیں، ہوائیں اور سمندری طغیانی پیدا کر دی ہے۔
رپورٹس کے مطابق، 10,000 سے زائد افراد کو متاثرہ علاقوں سے نکال کر حکومتی دفاتر اور اسکولوں میں قائم ریلیف کیمپوں میں منتقل کیا گیا ہے۔
دوسری جانب، چھٹھ پوجا اور جگدھاتری پوجا جیسے مذہبی تہواروں کے موقع پر بھی بعض ریاستوں میں اسکول بند رہے۔
بہار، دہلی اور مغربی بنگال میں چھٹھ پوجا کی تعطیلات کے بعد اسکول آج سے دوبارہ کھل گئے ہیں۔
31 اکتوبر کو مغربی بنگال میں جگدھاتری پوجا کے موقع پر ایک روزہ چھٹی ہوگی۔
والدین اور طلبہ کے لیے ہدایتتعلیمی حکام نے والدین اور طلبہ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے علاقائی اسکول انتظامیہ کی ہدایات اور نوٹسز پر مسلسل نظر رکھیں تاکہ کسی نئی اطلاع یا تعطیل کے اعلان سے باخبر رہ سکیں۔
یہ فیصلہ مقامی انتظامیہ کی جانب سے محفوظ ماحول اور طلبہ کی سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق، طوفان مونتھا کے اثرات اگلے 2 دن تک برقرار رہ سکتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت تعلیمی ادارے بند سمندری طوفان ’مونتھا‘.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت تعلیمی ادارے بند سمندری طوفان مونتھا میں اسکول بند ریاستوں میں کے مطابق
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :