عالمی تہذیبوں کے مکالمے پر وزارتی کانفرنس میں شرکا کا اظہار خیال
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
بیجنگ : عالمی تہذیبوں کے مکالمے کی دو روزہ وزارتی کانفرنس بیجنگ میں شروع ہوئی۔ جمعہ کے روز چینی میڈیا کے مطابق تقریباً 140 ممالک اور خطوں سے تعلق رکھنے والے 600 سے زائد چینی اور غیر ملکی مہمانوں نے تفصیلی تبادلے کیے، انسانی تہذیب کے تنوع کے تحفظ کی وکالت کی اور مشترکہ طور پر عالمی امن اور ترقی کو فروغ دیا۔ غیر ملکی مہمانوں نے چین کے گلوبل سولائزیشن انیشی ایٹو کو خراج تحسین پیش کیا، جو دنیا میں استحکام اور یقین پیدا کرتا ہے۔مصر کے سابق وزیر اعظم عصام عبد العزیز شرف نے کہا کہ اعتماد، افہام و تفہیم اور عوامی تبادلوں کے بغیر امن قائم نہیں ہو سکتا۔ یہیں سے گلوبل سولائزیشن انیشی ایٹو کی اہمیت سامنے آتی ہے۔اسلامی دنیا کی تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی تنظیم کے ڈائریکٹر جنرل سلیم مالک نے کہا کہ ہماری تاریخ، ثقافت اور شناخت کا تبادلہ ہمیں ایک ساتھ لاتا ہے۔ یونان کے سابق وزیر خارجہ جیورگیو کاتروگالوس نے کہا کہ تہذیبوں کے درمیان مکالمہ بہت اہم ہے اور اس سے ہم آہنگ بین الاقوامی تعلقات کے حصول میں مدد ملتی ہے۔موجودہ اجلاس میں شرکاء کی تعداد اور مختلف ممالک کی نمائندگی متاثر کن ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ مکالمہ مؤثر ذریعہ ہے۔
Post Views: 7.ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردوں کیخلاف سخت کارروائیاں ناگزیر قرار: کور کمانڈرز کانفرنس
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
راولپنڈی میں آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیر صدارت کورکمانڈرز کانفرنس کا انعقاد ہوا جس میں ملکی سلامتی، خطے کی صورتحال اور پاک فوج کی آپریشنل تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
کانفرنس میں واضح کیا گیا کہ بھارتی حمایت یافتہ اور اسپانسرڈ پراکسیز کے خلاف ہر سطح پر فیصلہ کن اور جامع کارروائیاں جاری رکھنا ناگزیر ہے، اور مسلح افواج وطن کے عوام کی حفاظت کو اولین ترجیح دیتی ہیں۔
آرمی چیف نے فورم کو اپنے حالیہ دورۂ امریکا کی تفصیلات سے آگاہ کیا، جہاں انہوں نے اعلیٰ امریکی قیادت کو پاکستان کا دو طرفہ، علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بامقصد مؤقف پیش کیا۔ فورم میں مشرق وسطیٰ اور ایران کی صورتحال، اور طاقت کے بڑھتے ہوئے عالمی استعمال پر تشویش کا اظہار بھی کیا گیا۔
فورم میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ بھارت اپنی دوطرفہ فوجی کشیدگی میں تیسرے فریق کو شامل کر کے خطے میں بلاک سیاست کو فروغ دینا چاہتا ہے، لیکن دنیا اب بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم اور ہندوتوا انتہاپسندی کے رجحانات سے بدظن ہوتی جا رہی ہے۔
کورکمانڈرز کانفرنس میں پاک افواج کی حالیہ کامیاب کارروائیوں، آپریشنل تیاریوں، اور جنگ کی بدلتی نوعیت کے پیش نظر پاک فوج کی حکمت عملی و جدید خطوط پر اپنانے والی تبدیلیوں کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ آرمی چیف نے ایران، ترکی، آذربائیجان، سعودی عرب اور یو اے ای کے دوروں سے متعلق بھی آگاہ کیا اور پاک فوج کی جانب سے بھرپور سفارتی کردار پر اطمینان کا اظہار کیا۔
آرمی چیف نے پاک بحریہ اور فضائیہ کے کردار کو سراہتے ہوئے ٹرائی سروسز ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا اور تمام خطرات کے خلاف پاک فوج کی بھرپور تیاری پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔