پیرس میں ایک کروڑڈالر میں فروخت ہونے والا لگژری ہینڈ بیگ
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پیرس: پیرس میں لگژری بیگ کی ایک کروڑ ڈالر کی فروخت نے سب کو حیران کردیا، انیس سو پچیاسی میں یہ ہینڈ بیگ معروف گلوکارہ جین برکن کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
تفصیلات کے مطابق خوشبوؤں کے شہر پیرس میں ایک کروڑ ڈالر مالیس کا لگژری بیگ فروخت ہوگیا۔
نیلام کرنے والی کمپنی کی سربراہ مورگن حلیمی کا کہنا ہے کہ چمڑے سے بنا یہ بیگ اس وجہ سے قیمتی تھا کہ یہ ایک لیجنڈ سے منصوب تھا، جس کی وجہ سے یہ نیلامی میں فروخت ہونے والا سب سے مہنگا ہینڈ بیگ بن گیا ہے۔
انیس سو پچاسی میں یہ ہینڈ بیگ سیاہ چمڑے سے معروف گلوکارہ جین برکن کے لیے تیار کیا گیا تھا، جو پچیس سال تک ان کے زیر استعمال رہا۔
رپورٹس کے مطابق برکن ایک بار دوران پرواز لگژری فیشن ہاؤس کے باس کی ساتھ والی سیٹ پر بیٹھی ہوئی تھیں اور وہ اپنا بیگ سنبھال نہیں پائی تھیں جس کی وجہ سے بیگ میں موجود تمام چیزیں گِر گئی تھیں۔
جس پر برکن نے ساتھ بیٹھے فیشن ہاؤس کے مالک سے شکوہ کیا کہ’آخر وہ بڑے بیگ کیوں نہیں بناتے؟‘جس پر فیشن ہاؤس کے مالک نے فورا ہی سِک پیپر بیگ پر بیگ کا ڈیزائن بنا ڈالا۔
جہاز میں تیار ہونے والے اُس ڈیزان کردہ بیگ کو پرانی چیزیں جمع کرنے والے ایک جاپانی نے خریدا ہے، چمڑے سے بنا یہ بیگ اس وجہ سے قیمتی تھا کہ یہ ایک لیجنڈ سے منصوب تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ہینڈ بیگ
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔