بلوچستان میں معصوموں پر خونی وار، پنجاب کے شہید بیٹوں کو پورے اعزاز کے ساتھ مختلف علاقوں میں سپرد خاک کردیاگیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
دنیا پور،فیصل آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 12 جولائی2025ء)بلوچستان کے ضلع لورالائی میں دہشتگردوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے پنجاب کے بیٹے، اپنے پیچھے صرف جنازے نہیں، پورے ملک کو سوگوار کر گئے۔ ان میں دنیاپور کے دو سگے بھائی عثمان اور جابر، گجرات کا نوجوان بلاول، فیصل آباد کے شیخ ماجد، مظفرگڑھ کے محمد آصف اور لاہور کے جنید شامل ہیں، جنہیں پورے اعزاز کے ساتھ پنجاب کے مختلف علاقوں میں سپرد خاک کیا گیا۔
دنیا پور میں جب دو بھائیوں کے جنازے ایک ساتھ اٹھے تو پورا علاقہ دھاڑیں مار مار کر رو دیا۔ عثمان اور جابر کے جنازوں میں ہزاروں افراد شریک ہوئے۔ تدفین کے وقت ان کی والدہ نے آنسو روک کر وطن سے محبت کے اشعار پڑھے اور پورے حوصلے سے کہا: میرے بیٹے شہید ہوئے، مگر وہ وطن پر قربان ہو گئے، میں ان پر فخر کرتی ہوں!‘‘ماں نے جذباتی شاعری سے ماحول رقت انگیز بنادیا اور کوئی ایسی آنکھ نہ تھی جو اشکبارنہ ہوئی ہو۔(جاری ہے)
فیصل آباد کے رہائشی شیخ ماجد کئی برسوں سے لورالائی میں کپڑے کا کاروبار کر رہے تھے۔ ان کے بھائی آصف علی نے بتایا کہ ماجد کی نہ کسی سے دشمنی تھی، نہ کسی تنازع کا شکار تھے۔ ان کے سوگواران میں بیوی، والدہ اور تین بہن بھائی شامل ہیں۔گجرات کے بلاول کی عمر صرف 23 سال تھی۔ وہ دبئی سے کچھ عرصہ قبل ہی وطن واپس آیا تھا اور دوستوں سے ملنے کوئٹہ گیا، مگر واپسی کا سفر خون میں لپٹ گیا۔ ان کے والد کی آنکھیں نم تھیں مگر آواز میں غضب تھا، بولی: ’’بیٹا گیا، مگر اب باقی بیٹے پاکستان کے لیے زندہ رہیں گی!‘‘لاہور سے تعلق رکھنے والے جنید اپنی اہلیہ کے ساتھ سسرال سے واپس آرہے تھے کہ دہشتگردی کی بھینٹ چڑھ گئے۔ ان کی معصوم بیٹی اب یتیم ہو چکی ہے۔ اہل خانہ نے ریاست سے سوال کیا: ’’ہمیں انصاف چاہیے، کیا ہماری سڑکیں نوگو ایریاز بن گئی ہیں ‘‘بلوچستان میں پنجاب کے شہریوں کو بسوں سے اتار کر شہید کرنا کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ اپریل 2024 میں بھی ضلع نوشکی میں ایسا ہی خونی سانحہ پیش آیا تھا، جس میں منڈی بہاؤالدین اور گوجرانوالہ کے نو شہریوں کو چن چن کر مارا گیا۔شہداء کے لواحقین اور شہریوں کا مطالبہ ہے کہ ریاست فوری طور پر ان قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچائے، ورنہ ہر دروازے پر شہادت کا نوحہ لکھا جائے گا۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے پنجاب کے
پڑھیں:
نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ جاری کردیاگیا
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ جاری کردیاگیا۔
نجی ٹی وی چینل جیونیوز کے مطابق سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ عدالتیں میڈیا کی پذیرائی یا عوامی مقبولیت کے کیلئے فیصلے نہیں کرسکتیں ،عدالت کا بنیادی فرض آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرنا ہے،قانون سے ہٹ کردائرہ اختیار کو اختیار کرنا یافرض کر لینا عدالتی اصولوں کے منافی ہے،عدالت نہ غیرقانونی دائرہ اختیار استعمال کر سکتی ہے، نہ قانونی دائرہ اختیار سے دستبردار ہو سکتی ہے،دائرہ اختیار کا تعین صرف آئین اور قانون کرتے ہیں۔
سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 175کے تحت ہر عدالت صرف وہی دائرہ اختیار استعمال کرسکتی ہے جو آئین یا قانون نے دیا ہو، آئین اور قانون کی مقررہ حدود سے تجاوز اختیارات سے ناجاز تجاوز کے مترادف ہے،دائرہ اختیار کے بغیر دیا گیا فیصلہ کالعدم اورغیرموثر ہوتا ہے،دائرہ اختیار کے بغیر فیصلے کو رم نان جوڈائس کے اصول کی زد میں آتے ہیں،ہر عدالت اپنے آئینی اور قانونی دائرہ اختیار کی پابند ہے،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے دائرہ ہائے اختیار الگ الگ ہیں،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے اختیارات ایک دوسرے پر حاوی نہیں ،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ ایک دوسرے کے اختیار میں مداخلت بھی نہیں کر سکتے۔
اداکارہ روما مائیکل اداکار شان بیگ سے شادی کے بندھن میں بندھ گئیں
عدالت نے کہاکہ ایک ہی مقدمے پردو متوازی عدالتی دائرہ ہائے اختیار قانون میں قابل قبول نہیں،ایک ہی مقدمے میں ضمانت سپریم کورٹ اوراپیل وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چل سکتی،جہاں قانون اپیل کا حق فراہم نہ کرے وہاں فریق اپنے پسند سے نیا قانونی راستہ اختیار نہیں کرسکتا، قانون فورم شاپنگ یعنی پسند کی عدالت منتخب کرنے کے رجحان کی اجازت نہیں دیتا، صرف فریقین کی خواہش یا رضا مندی سے عدالت دائرہ اختیار استعمال نہیں کرسکتی،عدالت فریقین کی منشاء یا خواہش پر لامحدود دائرہ اختیار استعمال نہیں کر سکتی۔
آپریشن العزم ؛مستونگ کے علاقہ کھڈکوچہ میں کارروائی، فتنہ الہندوستان کے 4دہشتگرد ہلاک
مزید :