امریکی اپیل کورٹ نے خالد شیخ محمد کا پلی بارگین معاہدہ منسوخ کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
واشنگٹن(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔12 جولائی ۔2025 )امریکی اپیل کورٹ نے نائن الیون کے مرکزی مشتبہ مجرم خالد شیخ محمد کے ساتھ ہونے والے پلی بارگین معاہدے کو منسوخ کر دیاہے جس کے تحت انہیں سزائے موت سے بچایا جانا تھا اور اس کے ذریعے ان کے کیس سے جڑی طویل قانونی کارروائی کو انجام تک پہنچایا جا سکتا تھا.
(جاری ہے)
لائیڈ آسٹن کا کہنا تھا کہ متاثرین کے خاندانوں اور امریکی عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ ملزمان کے خلاف مقدمات کی کارروائی دیکھی جائے خالد شیخ محمد کے ساتھ ساتھ 2 دیگر مبینہ ساتھیوں (ولید بن عطاش اور مصطفیٰ الحوساوی) کے ساتھ پلی بارگین معاہدے گزشتہ سال جولائی میں طے پائے تھے یہ فیصلہ ایسا معلوم ہوتا تھا، جیسے یہ مقدمات برسوں کی پیشگی قانونی چالوں کے بعد حل کی طرف بڑھ رہے ہوں، جب کہ ملزمان اب بھی کیوبا میں گوانتانامو بے کی فوجی جیل میں قید تھے. لائیڈ آسٹن نے معاہدے کے اعلان کے 2 دن بعد انہیں منسوخ کر دیا اور کہا کہ اس اہم معاملے کا فیصلہ ان کے اختیار میں ہونا چاہیے انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں، ہمارے فوجی جوانوں اور امریکی عوام کو یہ موقع ملنا چاہیے کہ وہ ان مقدمات میں فوجی کمیشن کے ٹرائل ہوتے دیکھ سکیں.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔