امریکی عدالت نے نائن الیون کے مبینہ ماسٹر مائنڈ خالد شیخ سے رعایتی معاہدہ کالعدم کر دیا WhatsAppFacebookTwitter 0 12 July, 2025 سب نیوز

واشنگٹن(آئی پی ایس) امریکہ کی ایک وفاقی اپیل کورٹ نے نائن الیون کے مبینہ ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد سے رعایتی معاہدے کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق گزشتہ برس موسم گرما میں خالد شیخ محمد اور دو دیگر ملزمان نے امریکی حکومت سے ایک معاہدے کے تحت اپنے اوپر عائد کردہ الزامات کا اعتراف کرنے پر اتفاق کیا تھا، اس معاہدے کے باعث شاید یہ مبینہ ماسٹر مائنڈ سزائے موت سے بچ جاتے اور اس کے بجائے انہیں عمرقید کی سزا سنائی جاتی۔

اس کے بعد عدالت میں دائر کی گئی ایک درخواست میں امریکی حکومت نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ اگر ان ملزمان کی پری ٹرائل معاہدے کے تحت دائر کردہ درخواستیں منظور کر لی گئیں تو اس سے ناقابل تلافی نقصان ہو گا۔

تین ججوں پر مشتمل پینل نے کہا کہ انہیں اس کیس پر غور کرنے اور کارروائی کو روکنے کے لیے مزید وقت درکار ہے، تاہم انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس تاخیر کو کسی بھی صورت مقدمے کی اہلیت کے حوالے سے فیصلہ تصور نہ کیا جائے۔

اب عدالت نے اس معاہدے کو دو ایک ووٹ سے مسترد کر دیا۔

بنچ میں شامل تیسرے جج نے رابرٹ ولکنز نے فیصلے سے اختلاف کیا ہے، خالد شیخ محمد 2003 سے گوانتاناموبے میں قید ہیں۔

امریکی عدالت نے جس معاہدے کو کالعدم قرار دیا ہے اس کے تحت متاثرین کے اہل خانہ کو خالد شیخ محمد سے سوالات کرنے کی اجازت دی گئی تھی اور پھر وہ ایمانداری سے ان کے جواب دینے کا پابند تھا۔

9/11 کے متاثرین کے اہل خانہ کے اس معاہدے پر منقسم تھے، کچھ لوگوں نے اس مقدمے کو انصاف اور سچائی کے راستے کی جانب ایک قدم قرار دیا جب کہ دوسروں نے اسے ایک تکلیف دہ مقدمے کے خاتمے کی کوشش کے طور پر دیکھا۔

خالد شیخ محمد گرفتاری کے بعد سے اس متنازع کیس میں مرکزی شخصیت رہے ہیں۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق ملزمان کے ساتھ معاہدے کا پہلی دفعہ ذکر پراسیکیوٹرز یعنی استغاثہ کی جانب سے نائن الیون حملوں کے متاثرین کے خاندانوں کو بھیجے گئے خط میں کیا گیا تھا۔

چیف پراسیکیوٹر ایرون رَگ نے اپنے خط میں لکھا تھا کہ سزائے موت کو ممکنہ سزا کے طور پر ہٹانے کے بدلے میں تینوں ملزمان نے چارج شیٹ میں درج 2,976 افراد کے قتل سمیت تمام الزامات کا اعتراف کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔‘

خالد شیخ محمد اور دیگر دو ملزمان کے ساتھ اس معاہدے کی شرائط کے بارے میں مکمل تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں تھیں لیکن ہم یہ جانتے ہیں کہ اس ڈیل کے نتیجے میں وہ سزائے موت کے مقدمے سے بچ سکتے تھے۔

خالد شیخ محمد کی قانونی ٹیم نے تصدیق کی کہ انھوں نے اپنے اوپر عائد کردہ تمام الزامات کو قبول کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔

خالد شیخ محمد کون ہیں؟

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق خالد شیخ محمد 14 اپریل 1965 کو کویت میں پیدا ہوئے، اُن کے والد مقامی مسجد کے پیش امام تھے اور اُن کا تعلق پاکستان سے تھا۔

خالد نے 16 سال کی عمر میں اسلامی تنظیم ’اخوان المسلمون‘ کی رکنیت حاصل کی تھی۔

1983 میں سیکنڈری سکول کا امتحان پاس کرنے کے بعد وہ تعلیم حاصل کرنے کے لیے امریکہ چلے گئے جہاں انہوں نے نارتھ کیرولائنا ٹیکنیکل یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور وہاں میکینیکل انجینیئرنگ کی تعلیم حاصل کرنے لگے، یہاں اُن کی ملاقات عرب طلبا کے ایک گروپ سے ہوئی جو یہاں پہلے سے ہی زیرِ تعلیم تھے۔

اس گروپ کے افراد کی مذہبی معاملات میں دلچسپی کے باعث انہیں یونیورسٹی کے باقی طلبا ملاز کہتے تھے، دسمبر 1986 میں خالد نے مکینیکل انجینیئرنگ کی ڈگری مکمل کر لی مگر اس دوران وہ شدت پسندی سے متعلقہ معاملات میں کافی آگے جا چکے تھے۔

1987 میں خالد شیخ محمد اسامہ بن لادن کے ساتھ ملے اور افغانستان میں سوویت فوجوں کے خلاف جنگِ جاجی میں شریک ہوئے۔

نائن الیون حملوں کے سہولت کار اور 1993 میں ورلڈ ٹریڈ سینٹرز پر حملہ کرنے والے رمزی یوسف بھی خالد شیخ محمد کے بھتیجے تھے، رمزی یوسف نے 1993 میں ورلڈ ٹریڈ سینٹرز کو تباہ کرنے کی ناکام کوشش کی تھی، اگرچہ رمزی کا مشن ناکام ہوا، لیکن اس کا شدت پسندوں کی اُس وقت کی اُبھرتی ہوئی نسل پر گہرا اثر پڑا تھا۔

ٹام میک ملن نے اپنی کتاب میں لکھا تھا کہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر 1993 کے حملے نے انتہا پسندوں کو یہ سمجھنے میں مدد دی تھی کہ امریکی سرزمین پر حملہ کوئی غیرمعمولی بات نہیں تھی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراعلیٰ عدلیہ کے ججز کے خط پر غور، سپریم جوڈیشل کونسل کا اہم اجلاس آج ہوگا اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے خط پر غور، سپریم جوڈیشل کونسل کا اہم اجلاس آج ہوگا ایف آئی اے کا منی لانڈرنگ کی تحقیقات کے حوالے سے اہم اقدام لکی مروت پولیس کی بروقت کارروائی، تھانے پر فتنہ الخوارج کا حملہ ناکام بنگلا دیش: سابق پولیس سربراہ نے انسانیت کے خلاف جرائم کا اعتراف کرلیا، حسینہ واجد پر فرد جرم قانون کی حکمرانی تک ملک ترقی نہیں کر سکتا، شاہد خاقان عباسی لاہور تا رائیونڈ صرف 16 کلومیٹر کی موٹروے؟ ،قائمہ کمیٹی اجلاس میں انکشاف TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: نائن الیون عدالت نے خالد شیخ

پڑھیں:

سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا

نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔  نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل