برطانیہ اور فرانس میں سیکورٹی معاہدہ ، تارکین وطن کے گرد گھیرا تنگ
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لندن (انٹرنیشنل ڈیسک) برطانیہ اور فرانس نے غیر قانونی طور پر یورپ میں داخل ہونے والے تارکین وطن سے نمٹنے کے لیے نیا اور سخت سیکورٹی معاہدہ کرلیا ۔ اس معاہدے کے تحت چھوٹی کشتیوں کے ذریعے رودبار انگلستان عبور کرنے والے افراد کو فوری گرفتار کرکے واپس بھیجا جائے گا۔ برطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر نے کہاکہ ہم صرف ان پناہ گزینوں کو قبول کریں گے جو حقیقتاً تحفظ کے مستحق ہوں، باقی تمام افراد کو فوری طور پر واپس بھیجا جائے گا۔ معاہدے کے مطابق غیر قانونی داخلے کو روکنے کے لیے دونوں ممالک کے بارڈر سیکورٹی ادارے ایک دوسرے سے مکمل تعاون کریں گے۔خبررساں اداروں کے مطابق لندن میں برطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر اور فرانسیسی صدر عمانویل ماکروں نے مشترکا پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ دونوں رہنماؤں کا کہنا تھا کہ غیرقانونی مائیگریشن یورپی اور عالمی بحران ہے، جسے جرائم پیشہ گروہ چلا رہے ہیں۔ فرانسیسی صدر ماکروں نے کہا کہ برطانیہ اور فرانس کو یورپ کے بدلتے وقت کے ساتھ اپنی شراکت داری کو مضبوط بنانا چاہیے۔ ہمارے مخالفین کو اب علم ہوگا کہ کسی پر حملے کا جواب دونوں ممالک دیں گے۔انہوںنے اس معاہدے کو نارتھ ووڈ ڈیکلریشن کا حصہ قرار دیا۔ ادھر برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ مختصر قانونی کارروائی کے بعد غیر قانونی تارکین وطن کی واپسی کے اقدامات کیے جائیں گے تاکہ نظام پر غیر ضروری بوجھ نہ پڑے۔پائلٹ اسکیم کے تحت ہر ہفتے 50 افراد کو سمندر کے راستے فرانس واپس بھیجا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اور فرانس
پڑھیں:
بحر اوقیانوس کے اوپر سیکیورٹی الرٹ، طیارہ پونے 4 گھنٹے بعد واپس لوٹ آیا
ایک مسافر کی بلوٹوتھ ڈیوائس(Bluetooth) کا نام “بم” ظاہر ہونے کے باعث امریکی ایئر لائن کی بین الاقوامی پرواز کو دورانِ سفر واپس موڑ کر ہنگامی لینڈنگ کرانا پڑی۔
ایئر لائن ذرائع کے مطابق یونائیٹڈ ایئر لائنز کی پرواز یو اے 236 نے 30 مئی کی شام نیوارک لبرٹی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے اسپین کے جزیرے پالما ڈی میلورکا کے لیے روانگی اختیار کی تھی۔ پرواز معمول کے مطابق اپنے سفر پر گامزن تھی اور تقریباً دو گھنٹے بعد بحر اوقیانوس کے اوپر پرواز کر رہی تھی۔
اسی دوران ایک مسافر کی بلوٹوتھ ڈیوائس کا نام “بم” کے طور پر ظاہر ہوا، جس کے بعد کیبن میں موجود بعض مسافروں اور عملے میں تشویش پھیل گئی۔ واقعے کی اطلاع فوری طور پر پائلٹ کو دی گئی جس نے حفاظتی ضوابط اور معیاری آپریٹنگ طریقہ کار کے تحت صورتحال کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے پرواز کو واپس موڑنے کا فیصلہ کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ممکنہ سیکیورٹی خطرے کے پیش نظر طیارے نے نیوارک واپس جانے کا رخ کیا اور تقریباً پونے چار گھنٹے بعد ہنگامی بنیادوں پر بحفاظت لینڈنگ کی۔
مزیدپڑھیں:دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
لینڈنگ کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیکیورٹی حکام نے طیارے کا تفصیلی معائنہ کیا جبکہ مشتبہ ڈیوائس اور اس کے مالک کے بارے میں تحقیقات بھی کی گئیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی قسم کا دھماکا خیز مواد برآمد نہیں ہوا، تاہم حکام نے واقعے کو فضائی سیکیورٹی کے حوالے سے انتہائی سنجیدگی سے لیا۔
ہوائی سفر کے دوران بم یا دیگر خطرناک الفاظ کا استعمال، خواہ مذاق یا غیر سنجیدگی کے طور پر ہی کیوں نہ کیا جائے، سخت سیکیورٹی ردعمل کا سبب بن سکتا ہے اور اس کے نتیجے میں پروازوں میں تاخیر، ہنگامی لینڈنگ اور قانونی کارروائی بھی ہو سکتی ہے۔