آئینی انحراف یا دانستہ خلاف ورزی؟ خیبرپختونخوا اسمبلی میں مخصوص نشستوں کے ارکان کی حلف برداری میں رکاوٹ اور سینیٹ انتخابات پر اس کے قانونی اثرات
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
آئینی انحراف یا دانستہ خلاف ورزی؟ خیبرپختونخوا اسمبلی میں مخصوص نشستوں کے ارکان کی حلف برداری میں رکاوٹ اور سینیٹ انتخابات پر اس کے قانونی اثرات WhatsAppFacebookTwitter 0 11 July, 2025 سب نیوز
تحریر: حافظ احسان احمد کھوکھر
ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان
آئینی قانون کے ممتاز ماہر، 25 سالہ پیشہ ورانہ قانونی تجربہ رکھنے والے وکیل
سپریم کورٹ آف پاکستان کے 27 جون 2025 کے فیصلہ کے بعد، خیبرپختونخوا اسمبلی میں خواتین اور غیر مسلموں کی مخصوص نشستوں کی تقسیم کا معاملہ مکمل طور پر طے پا چکا ہے۔ اس فیصلے کی روشنی میں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اپنے آئینی اختیارات، بشمول آئین کے آرٹیکل 218(3)، 219، اور الیکشنز ایکٹ 2017 کے سیکشن 98 اور 103 کے تحت، مخصوص نشستوں پر کامیاب امیدواروں کے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیے۔
تاہم ایک سنگین آئینی بحران اس وقت پیدا ہو گیا جب خیبرپختونخوا اسمبلی کے اسپیکر نے ان نوٹیفائیڈ ارکان کی حلف برداری کے لیے نہ تو اسمبلی کا اجلاس بلایا اور نہ ہی حلف لینے کے لیے کوئی آئینی بندوبست کیا۔ یہ ادارہ جاتی انفعال نہ صرف اسمبلی کے جمہوری اور نمائندہ کردار کو مفلوج کر رہا ہے بلکہ آئندہ سینیٹ انتخابات کو بھی آئینی اعتبار سے غیر مؤثر اور چیلنج ایبل بنا رہا ہے، جو کہ آئین کے آرٹیکل 59(2) کے تحت متناسب نمائندگی کے اصول پر مبنی ہوتے ہیں۔
آئین کے آرٹیکل 65 کے تحت حلف کی آئینی ذمہ داری
آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 65 بالکل واضح ہے:
“کوئی شخص جو کسی ایوان کا رکن منتخب ہو، اُس وقت تک اُس ایوان میں نہ بیٹھے گا اور نہ ووٹ دے سکے گا جب تک وہ تیسرے شیڈول میں دیے گئے فارم کے مطابق ایوان کے روبرو حلف نہ اُٹھا لے۔”
یہ شق ایک لازمی اور غیر مبہم آئینی شرط ہے، جس کے بغیر کوئی رکن، خواہ وہ مخصوص نشست پر منتخب ہوا ہو یا عمومی، اسمبلی میں نہ بیٹھ سکتا ہے، نہ ووٹ دے سکتا ہے، اور نہ ہی سینیٹ کے انتخاب میں حصہ لے سکتا ہے۔ لہٰذا مخصوص نشستوں پر منتخب ارکان کی حلف برداری صرف ایک رسمی عمل نہیں بلکہ ایک آئینی تقاضا ہے۔
اسپیکر کی آئینی و قانونی ذمہ داری اور اسمبلی قواعد
خیبرپختونخوا اسمبلی کے قواعد کار 1988 کے مطابق:
قاعدہ 6 کے تحت اسپیکر اسمبلی کی کارروائی کی صدارت اور اجلاس کی رہنمائی کا ذمہ دار ہوتا ہے؛
قاعدہ 7(1) واضح کرتا ہے کہ کوئی بھی رکن اسمبلی میں بیٹھنے سے قبل ایوان کے سامنے حلف لے؛
قاعدہ 12(3) کے تحت اسپیکر کی غیر موجودگی میں ڈپٹی اسپیکر اجلاس کی صدارت کر سکتا ہے؛
قاعدہ 13 اور 14 کے تحت ایسی صورت میں جہاں اسپیکر یا ڈپٹی اسپیکر غیر حاضر ہوں یا اجلاس کی صدارت نہ کر سکیں، متبادل طریقے سے صدارت کے انتظامات کیے جا سکتے ہیں۔
ان قواعد کے باوجود اگر اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر دونوں آئینی فریضہ ادا کرنے سے انکار کریں تو یہ آئینی عمل کا جمود شمار ہوگا، جسے ختم کرنے کے لیے آئین، بالخصوص گورنر کے اختیارات، بروئے کار لائے جا سکتے ہیں۔
گورنر کا آئینی اختیار اور اجلاس کی طلبی
آئین کا آرٹیکل 109(a) یہ اختیار دیتا ہے کہ:
“گورنر وقتاً فوقتاً صوبائی اسمبلی کا اجلاس ایسے وقت اور مقام پر طلب کرے گا جیسا وہ مناسب سمجھے۔”
اسی طرح آرٹیکل 130(2) کے تحت گورنر پر لازم ہے کہ عام انتخابات کے بعد اسمبلی کا اجلاس طلب کرے۔ اگر اسپیکر یا ڈپٹی اسپیکر آئینی فریضہ ادا کرنے سے قاصر ہوں یا انکار کریں تو گورنر کو آئینی طور پر یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اسمبلی کا اجلاس خود طلب کرے تاکہ اسمبلی کی نمائندہ حیثیت اور سینیٹ انتخابات کا آئینی توازن متاثر نہ ہو۔
ایسی صورتحال میں جب گورنر اجلاس طلب کرتا ہے اور اسپیکر یا ڈپٹی اسپیکر دستیاب نہیں ہوتے، تو گورنر اسمبلی قواعد کے قاعدہ 13 اور 14 کی روشنی میں کسی اور رکن اسمبلی کو صدر اجلاس مقرر کر سکتا ہے جو کہ حلف کی کارروائی مکمل کرے۔ اگر گورنر ایسا نہ کرے تو اسمبلی اور سینیٹ کے پورے انتخابی نظام میں آئینی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔
الیکشن کمیشن کا کردار اور عدالتی نفاذ
الیکشن کمیشن آف پاکستان آئین کے آرٹیکل 218(3)، 219(d)، اور الیکشنز ایکٹ 2017 کے سیکشنز 8 اور 98 کے تحت نہ صرف انتخابات کے انعقاد بلکہ مکمل نمائندگی کے عمل کی تکمیل کا ذمہ دار ہے۔
الیکشن کمیشن درج ذیل اقدامات کرنے کا مجاز ہے:
اسپیکر کو باقاعدہ نوٹس دے کر فوری طور پر حلف لینے کا بندوبست کرنے کا کہے؛
گورنر کو آئینی طریقہ کار کے مطابق اجلاس طلب کرنے کی درخواست کرے؛
سپریم کورٹ میں آرٹیکل 184(3) کے تحت پٹیشن دائر کرے تاکہ آئین کی خلاف ورزی کا تدارک ہو۔
اسی طرح مخصوص نشستوں پر منتخب نوٹیفائیڈ ارکان بھی آرٹیکل 199 یا 184(3) کے تحت ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں تاکہ ان کے بنیادی حقوق اور آئینی حیثیت کا تحفظ کیا جا سکے۔
سینیٹ انتخابات اور آرٹیکل 59(2) کی خلاف ورزی کا خطرہ
آرٹیکل 59(2) کے مطابق:
“سینیٹ کی خالی نشستوں کے لیے انتخابات ہر صوبے میں متناسب نمائندگی کے اصول کے تحت سنگل ٹرانسفر ایبل ووٹ کے ذریعے ہوں گے۔”
یہ لازم قرار دیتا ہے کہ صوبائی اسمبلی اپنی مکمل تعداد کے ساتھ موجود ہو تاکہ ہر جماعت کو اس کی نمائندہ حیثیت کے مطابق سینیٹ میں نشست ملے۔
اگر مخصوص نشستوں پر منتخب ارکان کی حلف برداری نہ ہوئی اور سینیٹ انتخابات ہو گئے تو اس سے متناسب نمائندگی کا آئینی اصول متاثر ہو گا، جس سے سینیٹ انتخابات آئینی طور پر چیلنج ایبل ہو جائیں گے۔
اسپیکر اور سیکریٹری کی قانونی و ادارہ جاتی جواب دہی
اگر اسپیکر اپنے آئینی فرائض سے دانستہ انحراف کرتا ہے تو:
اس کے خلاف آرٹیکل 204 کے تحت توہین عدالت کی کارروائی ممکن ہے؛
آرٹیکل 199 کے تحت عدالت ہدایت جاری کر سکتی ہے؛
قاعدہ 12 کے تحت اسپیکر کے خلاف اسمبلی میں عدم اعتماد کی تحریک آ سکتی ہے؛
وہ آئین سے بغاوت کے مرتکب ہو سکتے ہیں۔
اسی طرح اسمبلی سیکریٹری، جو انتظامی ذمہ داری کا حامل ہے، اگر آئینی و قواعدی عمل کو روکے یا مکمل نہ کرے، تو اس کے خلاف بھی ادارہ جاتی تادیبی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
کیا آئین کا آرٹیکل 255 یہاں لاگو ہوتا ہے؟
آرٹیکل 255 اس صورت میں اطلاق پاتا ہے جب حلف نہ لینے کی وجہ سہواً یا کسی مجبوری کی بنیاد پر ہو۔ مگر یہاں معاملہ مختلف ہے کیونکہ ارکان حلف لینے کے لیے تیار ہیں، اور رکاوٹ اسپیکر کے دانستہ انکار سے پیدا ہوئی ہے۔ اس لیے آرٹیکل 255 کا اطلاق اس صورتحال پر نہیں ہوتا۔
عدالتی نظائر جو آئینی عمل کو یقینی بناتے ہیں
سپریم کورٹ نے بارہا فیصلہ دیا ہے کہ آئینی افعال کو ادارہ جاتی رکاوٹوں کے ذریعے روکا نہیں جا سکتا:
PLD 2022 SC 427 (اسپیکر رولنگ کیس): کوئی بھی آئینی افسر آئین کو مفلوج نہیں کر سکتا؛ عدالت حکم دے سکتی ہے؛
PLD 1993 SC 473 (نواز شریف کیس): آئینی تسلسل کو سیاسی وجوہات سے نہیں روکا جا سکتا؛
PLD 1988 SC 416 (بینظیر بھٹو کیس): ہر منتخب رکن کو کام کرنے کا آئینی حق حاصل ہے؛ اس کا انکار آرٹیکل 17 اور 25 کی خلاف ورزی ہے۔
نتیجہ: آئینی تسلسل اور انتخابی انصاف کا تحفظ ضروری
خیبرپختونخوا اسمبلی کے اسپیکر کا مخصوص نشستوں پر منتخب ارکان کی حلف برداری میں رکاوٹ ڈالنا، نہ صرف آرٹیکل 65 بلکہ سپریم کورٹ کے فیصلے 27 جون 2025 اور الیکشن کمیشن کے نوٹیفیکیشنز کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس صورتحال میں گورنر آئین کے آرٹیکل 109 اور 130(2) کے تحت اجلاس طلب کرنے اور اسپیکر یا ڈپٹی اسپیکر کی عدم موجودگی میں کسی اور رکن کو اجلاس کی صدارت اور حلف لینے کے اختیارات سونپنے کے مجاز ہیں۔
الیکشن کمیشن، نوٹیفائیڈ ارکان اور گورنر تینوں سپریم کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں تاکہ آئینی انحراف کی اصلاح کی جا سکے۔ اگر سینیٹ انتخابات بغیر مکمل اسمبلی کے ہوتے ہیں تو وہ آئینی طور پر مشکوک اور چیلنج ایبل ہو جائیں گے۔
اس صورتحال میں اداروں کی غیر جانب داری، عدلیہ کا کردار اور آئینی جرات پاکستان کے جمہوری نظام اور آئینی عمل کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔
۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربانی تحریک انقلاب پاکستان محمد عارف نے ایلون مسک کی امریکا پارٹی جوائن کر لی آگئے میری موت کا تماشا دیکھنے سرکاری ملازمین اور ٹیکس کی وصولی اسیرانِ لاہور کا خط اور پی۔ٹی۔آئی کربلا سے سبق اور اس کی عصرِ حاضر میں اہمیت آئینی لغزش: آزاد پھر سے آزاد ہو گئے پی ٹی آئی کی آئینی غلط فہمی اور سنی اتحاد کونسل کی حمایت کی بھاری قیمت سپریم کورٹ نے انتخابی عمل میں ‘ریورس انجینئرنگ’ کو مسترد کر دیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: خیبرپختونخوا اسمبلی ارکان کی حلف برداری اور سینیٹ انتخابات مخصوص نشستوں اسمبلی میں خلاف ورزی
پڑھیں:
اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا شہزادہ رحیم کے دورۂ گلگت بلتستان کے الیکشن پر اثرات
اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا شہزادہ شاہ رحیم الحسینی نے اپنے سرکاری دورۂ پاکستان کے دوران گلگت بلتستان اور چترال میں مریدوں سے اہم ملاقات کی ہیں تاہم ان کا یہ دورہ ایک ایسے وقت ہوا جب گلگت بلتستان میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔
شہزادہ شاہ رحیم الحسینی امامت سنبھالنے کے بعد پہلی بار 20 مئی کی شام اسلام آباد کے نور خان ایئر بیس پر پہنچے تو ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ صدر آصف علی زرداری اور خاتونِ اوّل نے نور خان ایئر بیس پر ان کا پرتپاک استقبال کیا اور ایوانِ صدر میں ان کے اعزاز میں عشائیہ دیا جبکہ اگلی صبح وزیراعظم نے انہیں ناشتے پر مدعو کیا۔ پرنس شاہ رحیم 22 مئی کو گلگت بلتستان پہنچے اور مریدوں سے ملاقات اور دیدار کا سلسلہ شروع ہوا۔
پرنس شاہ رحیم کا دورہ اور گلگت بلتستان الیکشناسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا کا امامت سنبھالنے کے بعد پاکستان کا یہ پہلا دورہ تھا۔ ان کے دورے کا باضابطہ اعلان ہوتے ہی گلگت بلتستان اور چترال میں ان کے مریدوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور جشن کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
پرنس رحیم نے ایک ایسے وقت میں گلگت بلتستان میں اپنے مریدوں سے ملاقات کی جب وہاں عام انتخابات کے لیے انتخابی مہم شروع تھی۔ اسماعیلی برادری کے دورے کا سیاست اور الیکشن سے کوئی تعلق ہے نہ ہی انہوں نے سیاست پر کوئی بات کی۔ انہوں نے اپنے مریدوں سے خطاب میں تعلیم، معاشیات، ہنر، موسمیاتی تبدیلی اور جدید دور کے تقاضوں پر بات کی، تاہم اس کے باوجود کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ ان کے دورے کا الیکشن پر کچھ حد تک بالواسطہ اثر پڑ سکتا ہے۔
مریدوں کا جھکاؤ کس طرف ہو گا؟آغا خان کے دورے اور گلگت بلتستان الیکشن پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کے مطابق بظاہر آغا خان پنجم کے دورے کا الیکشن پر کوئی اثر نظر نہیں آ رہا۔ ان کے مطابق آغا خان کا خاندان غیر سیاسی ہے اور کبھی انہوں نے کسی ملک کی سیاست یا انتخابات پر بات کی ہے نہ ہی اثر انداز ہونے کی کوشش کی ہے۔ حالیہ دورے کے دوران بھی انہوں نے کہیں بھی سیاست پر بات نہیں کی۔
یہ بھی پڑھیں:پرنس رحیم آغا خان کا پہلا سرکاری دورۂ پاکستان مکمل، خیرسگالی اور یکجہتی کا پیغام
نوجوان صحافی کامران علی جنہوں نے آغا خان پنجم کے دورے کی کوریج کی، کا کہنا ہے کہ پرنس رحیم نے اپنے مریدوں سے خطاب میں سیاست پر ایک لفظ بھی نہیں کہا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ آغا خان نے سیاست پر بات نہیں کی، لیکن جن رہنماؤں نے ان کا استقبال کیا اور عزت دی، ان کا گراف مریدوں کی نظر میں بلند ہو گیا۔ ’گلگت بلتستان میں اسماعیلی برادری کی خاصی آبادی ہے اور ان کے ووٹ کسی کی بھی جیت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں‘۔
کامران علی کے مطابق پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اپنی بیٹی اور خاتونِ اول کے ساتھ خود نور خان ایئر بیس گئے اور آغا خان کا استقبال کیا۔ جب وہ ایوانِ صدر پہنچے تو بلاول بھٹو زرداری نے بھی ان کا خیر مقدم کیا۔
کامران علی نے بتایا کہ جب آغا خان شاہ رحیم الحسینی کے والد شاہ کریم الحسینی کا انتقال ہوا تھا تو اس وقت صدر پاکستان آصف علی زرداری تعزیت کے لیے پرتگال گئے تھے۔ ’اگرچہ آغا خان کا سرکاری سطح پر استقبال کیا جاتا ہے، لیکن آصف علی زرداری کی اہمیت مریدوں کی نظر میں بڑھ گئی ہے‘۔
کامران نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے بھی اسے سیاسی طور پر استعمال نہیں کیا، لیکن مرید سب کچھ دیکھ رہے ہیں اور امام کی عزت و وقار کے لیے وہ سب کچھ کرنے کو تیار ہوتے ہیں۔
مزید پڑھیں:گلگت بلتستان الیکشن میں کس کا پلہ بھاری ہے؟
ان کاکہنا ہے کہ ’میرے خیال میں اگر آغا خان کے دورے کا سیاسی سطح پر کوئی فائدہ ہوا تو وہ پیپلز پارٹی کو ہو گا، کیونکہ انہوں نے اس دورے کو سب سے زیادہ اہمیت دی۔ وفاق میں صدر، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی کے گورنرز نے ان کا بھرپور استقبال کیا‘۔
آغا خان کے دورے کا فائدہ کس حد تک ہو گا؟اسماعیلی برادری سے تعلق رکھنے والوں کا خیال ہے کہ اس دورے کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ذاکر خان کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے اور وہ اپنے امام کے دیدار کے لیے کراچی سے گئے تھے، نے بتایا کہ اس دورے کے دوران کہیں بھی انہوں نے سیاست پر بات نہیں کی۔
ذاکر کے مطابق پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے جس طرح آغا خان کا استقبال کیا اور عزت دی، اس سے ان کی نظروں میں ان کی اہمیت بڑھ گئی۔
ان کے مطابق پیپلز پارٹی نے ابھی تک اسے سیاسی طور پر استعمال نہیں کیا۔ ذاکر کا خیال ہے کہ اس دورے سے وہی فائدہ اٹھا سکتے ہیں جنہوں نے دورے کے دوران پیش پیش رہ کر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی ہو۔ ’اسماعیلی برادری کے لوگ تعلیم یافتہ ہیں، وہ میرٹ پر یقین رکھتے ہیں اور ووٹ بھی میرٹ پر ہی دیتے ہیں‘۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی طرف جھکاؤ بڑھ سکتا ہے، لیکن دیگر جماعتوں سے بھی اسماعیلی امیدوار میدان میں ہیں۔ ’اسماعیلی برادری سے تعلق رکھنے والے امیدوار جماعت کے دفاتر یا دیگر نجی ملاقاتوں میں اس دورے کا ذکر کرتے ہیں اور اپنی جماعت کی طرف سے امام کو دیے گئے عزت و احترام کو ووٹرز کو متاثر کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں‘۔
یہ بھی پڑھیں:تعلیم، برداشت اور اخلاقی رویوں سے انسانیت کی خدمت کی جائے، پرنس رحیم آغا خان کا گلگت میں خطاب
انہوں نے بتایا کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری الیکشن مہم کے سلسلے میں گلگت بلتستان میں موجود ہیں جبکہ نواز شریف بھی وہاں پہنچے ہیں۔ دونوں جماعتوں نے آغا خان کو بہت عزت دی، لیکن الیکشن مہم میں اس کا ابھی تک براہِ راست ذکر نہیں کیا گیا۔ تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ جس جماعت نے امام کو عزت دی ہے، اس کا گراف اسماعیلی برادری میں بلند ہو گیا ہے تاہم یہ مقامی امیدواروں پر ہے کہ وہ اسے کیسے کیش کرتے ہیں‘۔
ذاکر نے بتایا کہ اس دورے کو سیاست کے ساتھ منسلک کرنے سے سیاسی امیدواروں اور جماعتوں کو نقصان کا خطرہ بھی ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق اسماعیلی برادری کے لوگ مذہب کو سیاست سے الگ رکھتے ہیں اور موقع پرستوں کو پسند نہیں کرتے۔
سیاست سے کوئی تعلق نہیں، تمام امیدواروں کے لیے نیک خواہشاتاسماعیلی کونسل گلگت کی امورِ عامہ و سیکیورٹی کمیٹی نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ کونسل ایک غیرسیاسی اور غیرجانبدار ادارہ ہے اور گلگت بلتستان اسمبلی کی جاری انتخابی مہم میں کسی سیاسی جماعت، امیدوار یا انتخابی گروپ کی حمایت یا مخالفت نہیں کرتی۔
مقامی نیوز ویب سائٹ پامیر ٹائمز کے مطابق انتخابات سے قبل جاری بیان میں کمیٹی نے کہا کہ مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندے اور آزاد امیدوار پورے خطے میں انتخابی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ کمیٹی نے واضح کیا کہ اسماعیلی کونسل ایک امامت کا ادارہ ہے جو سیاسی معاملات میں سخت غیرجانبداری برقرار رکھتی ہے اور کسی امیدوار یا جماعت کی توثیق نہیں کرتی۔
اسماعیلی کونسل نے یہ بیان اس وقت جاری کیا جب اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا شاہ رحیم الحسینی گلگت بلتستان کا دورہ مکمل کر کے واپس روانہ ہو گئے۔
بیان میں کونسل نے تمام سیاسی جماعتوں، ان کے نمائندوں اور آزاد امیدواروں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ انتخابی عمل جمہوری اقدار، باہمی احترام، قانون کی حکمرانی اور پرامن ماحول کے مطابق ہوگا۔
مزید پڑھیں:وزیرِ اعظم شہباز شریف اور پرنس رحیم آغا خان کی ملاقات، آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک کو وسعت دینے پر زور
بیان میں مزید زور دیا گیا کہ ہر اسماعیلی ووٹر اپنے ضمیر، سیاسی سمجھ بوجھ اور ذاتی رائے کے مطابق آئینی حقِ رائے دہی استعمال کرنے کے لیے آزاد ہے۔ اس پر زور دیا گیا کہ کونسل کسی فرد یا گروہ کو کسی خاص سیاسی جماعت یا امیدوار کی حمایت یا مخالفت کی ہدایت نہیں دیتی۔
اسماعیلی کونسل نے کمیونٹی کے افراد پر زور دیا کہ وہ انتخابی مدت کے دوران احترام، اتحاد، رواداری اور ذمہ دارانہ رویہ برقرار رکھیں، سیاسی وابستگیوں کو ذاتی معاملہ سمجھیں اور کمیونٹی کے اتحاد کو ترجیح دیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آصف علی زرداری آصفہ بھٹو آغا الیکشن بلتستان پرنس پرنس رحیم آغا پیپلز پارٹی دورہ پاکستان رحیم عام انتخابات گلگت