امریکا کی اپیل عدالت نے 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد کے ساتھ جرم قبول کرنے کے عوض سزائے موت ختم کرنے کے پلی بارگین معاہدے کو مسترد کر دیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی عدالت کے جج پٹریشیا ملیٹ اور نئومی راؤ نے اپنے فیصلے میں وزیر دفاع کے فیصلے کو قانونی جواز فراہم کرتے ہوئے 6 نومبر 2024 کے فوجی جج کے فیصلے کو کالعدم قرار دیدیا۔

انھوں نے کہا کہ وزیر دفاع کا مجرمان کے ساتھ پلی بارگین معاہدہ ختم کرنے کا فیصلہ قانون کے دائرہ کار میں آتا ہے اس لیے ہم ان کے فیصلے پر سوال اٹھانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔

یاد رہے کہ اس قبل ایک فوجی عدالت نے مجرمان کے ساتھ ان معاہدوں کو مؤثر اور نافذ العمل قرار دیتے ہوئے وزیر دفاع کو معاہدوں کو منسوخ کرنے سے روک دیا تھا۔ جس پر اپیل کورٹ سے رجوع کیا گیا۔

اپیل کورٹ نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ فوجی جج کو نہ صرف اس فیصلے پر مزید سماعت سے روکا جاتا ہے بلکہ ملزمان کے کسی بھی جرم قبول کرنے یا معاہدے کے تحت کوئی بھی کارروائی کرنے سے بھی منع کیا گیا ہے۔

اپیل کورٹ کے اس فیصلے سے اب توقع کی جا رہی ہے کہ نائن الیون ملزمان پر باقاعدہ فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا جہاں لواحقین اور عوام کو انصاف کے عمل کو دیکھنے کا موقع ملے گا۔

یہ فیصلہ ایسے وقت آیا ہے جب تقریباً دو دہائیوں سے جاری مقدمے کو قانونی پیچیدگیوں اور پیشگی سماعتوں کے باعث پیشرفت میں شدید تاخیر کا سامنا رہا ہے۔

نائن الیون کے مبینہ ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد 2003 سے گوانتانامو بے کے امریکی فوجی قید خانے میں قید ہیں۔

یاد رہے کہ یہ معاہدہ خالد شیخ محمد کے علاوہ دو دیگر ملزمان ولید بن عطاش اور مصطفیٰ الحوساوی کے ساتھ کیا گیا تھا۔

اس پلی بارگین معاہدے کا اعلان جولائی 2024 میں کیا گیا جس کا بنیادی مقصد برسوں سے تاخیر کا شکار مقدمے کو جلد انجام تک پہنچانا تھا۔

تاہم پلی بارگین معاہدے پر شہریوں بالخصوص 9/11 حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین کی جانب سے شدید تنقید سامنے آئی تھی۔

جس پر اُس وقت کے امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے نائن الیون کے ملزمان کے ساتھ پلی بارگین معاہدے کو منسوخ کر دیا تھا۔

خیال رہے کہ خالد شیخ محمد اور دیگر 2 ملزمان کے مقدمے پر یہ بحث جاری ہے کہ آیا ان پر شفاف اور منصفانہ انداز میں مقدمہ چلایا جا سکتا ہے یا نہیں خاص طور پر اس پس منظر میں کہ ان پر سی آئی اے کی حراست کے دوران تشدد کیے جانے کے الزامات موجود ہیں۔

 .

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: خالد شیخ محمد ملزمان کے وزیر دفاع کے ساتھ کیا گیا

پڑھیں:

امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور

امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی

قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔

یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔

تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔

مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ

قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔

Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.

This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP

— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026

اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔

یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔

مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ

صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل