9 مئی کیسز: فوجی عدالت سے سزایافتہ ملزمان کی سزاؤں کیخلاف درخواستوں کا حکمنامہ جاری
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
9 اور 10 مئی توڑ پھوڑ میں ملٹری کورٹ سے سزایافتہ ملزمان کی سزاؤں کے خلاف دائر درخواستوں کے حوالے سے پشاور ہائیکورٹ نے چھ صفحات پر مشتمل حکم نامہ جاری کردیا۔
عدالت نے وفاقی و صوبائی حکومت، سیکرٹری ڈیفنس، فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کو نوٹس جاری کردیا، حکم میں کہا گیا کہ متعلقہ فریقین درخواست گزاروں کو ملٹری کورٹ فیصلوں اور کاروائی کا مکمل ریکارڈ فراہم کریں، درخواست گزاروں کے مطابق انہیں صفائی کا موقع نہیں دیا گیا۔
حکمنامے میں کہا گیا کہ درخواست گزاروں کو ملٹری کورٹ فیصلوں اور عدالتی کاروائی کا ریکارڈ بھی فراہم نہیں کیا گیا۔
وکیل درخواست گزار بیرسٹر عامر خان چمکنی نے کہا کہ پشاور۔ نو اور دس مئی کو توڑ پھوڑ میں ملٹری کورٹ نے ملزمان کو سزائیں سنائی ہے، موجودہ 13 میں سے 9 کا تعلق بنوں دو کا تعلق چکدرہ اور دو تعلق لوئر دیر سے ہے، پشاور۔ ملٹری کورٹ نے درخواست گزاروں کو دس، چار اور دو سال کی سزائیں سنائی ہے۔
عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کردیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: درخواست گزاروں ملٹری کورٹ
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔