قطر میں امریکی اڈوں پر حملہ معمولی واقعہ نہیں تھا: آیت اللّٰہ علی خامنہ ای
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
تہران(نیوز ڈیسک)خلیجی خطے میں ایک مرتبہ پھر کشیدگی بڑھ گئی ہے، اور اس بار معاملہ صرف بیان بازی تک محدود نہیں رہا۔ 23 جون کو ایران کی جانب سے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملہ کیا گیا، جس کے بعد عالمی سیاسی و عسکری حلقے ہل کر رہ گئے۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے اس حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ العديد ایئر بیس کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای نے اس واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا، بلکہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران امریکی اڈوں تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور مستقبل میں ایسا حملہ دوبارہ ہو سکتا ہے۔
حملے کے پس منظر میں کیا ہوا؟
واقعے سے ایک روز قبل یعنی 22 جون کو امریکا نے اسرائیل کی معاونت کرتے ہوئے ایران کی تین اہم نیوکلیئر تنصیبات پر حملہ کیا۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر تصدیق کی کہ ایران کے شہروں فردو، نطنز اور اصفحان میں واقع جوہری مراکز پر حملے کیے گئے، جن میں فردو تنصیب مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔
ان حملوں کے بعد ایران کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا، جس کا اظہار پہلے فوجی کارروائی اور پھر بیانات کے ذریعے کیا گیا۔
ایرانی وزیرخارجہ کی شرائط: مذاکرات کی گنجائش باقی ہے؟
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے فرانسیسی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا اپنی غلطیوں کا ازالہ کرے اور مذاکرات کے دوران مزید حملے نہ کرنے کی تحریری ضمانت دے، تو ایران وقار اور باہمی احترام کی بنیاد پر مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ امریکی حملوں سے ایران کی جوہری تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے، اور ایران اس نقصان کا معاوضہ طلب کرنے کا حق رکھتا ہے۔ عباس عراقچی کی یہ باتیں اس بات کا اشارہ ہیں کہ ایران محض جنگ کا راستہ اختیار نہیں کرنا چاہتا، لیکن اگر چھیڑا گیا تو پیچھے بھی نہیں ہٹے گا۔
مستقبل کی صورتحال: کشیدگی بڑھے گی یا مذاکرات کا راستہ نکلے گا؟
یہ سوال اس وقت سب کے ذہن میں ہے کہ آیا امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی مزید بڑھے گی یا کوئی سفارتی حل نکل آئے گا۔ آیت اللّٰہ خامنہ ای کا بیان اور قطر میں امریکی اڈے پر حملہ ایک سخت پیغام ضرور ہے، لیکن عباس عراقچی کی مذاکرات کی مشروط پیشکش امید کی ایک کرن بھی دکھا رہی ہے۔
تاہم اگر امریکا کی جانب سے جارحانہ رویہ جاری رہا، تو ایران کی طرف سے جوابی کارروائیاں نہ صرف ممکن ہیں بلکہ مزید سنگین صورت اختیار کر سکتی ہیں، جو پورے مشرق وسطیٰ کو عدم استحکام کا شکار کر سکتی ہیں۔
خطے میں امن کا واحد راستہ،باہمی احترام اور سیاسی حکمت
قطر میں امریکی اڈوں پر ایرانی حملہ عالمی سطح پر طاقت کے توازن اور خطے کے استحکام کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ ایران نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری اور جوہری اثاثوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ایران نے مذاکرات کے دروازے بھی بند نہیں کیے، جو کہ ایک مثبت اشارہ ہے۔
یہ وقت ہے کہ عالمی طاقتیں بالخصوص امریکا اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کریں اور خطے میں پائیدار امن کے لیے باہمی احترام اور سفارتی راستے کو ترجیح دیں۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: میں امریکی ایران کے ایران کی
پڑھیں:
امریکا ایران مذاکرات میں تعطل کے بعد عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ
عالمی منڈی میں خام تیل(crude oil) کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کی بنیادی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں تعطل اور مشرقِ وسطیٰ میں غیر یقینی صورتحال کو قرار دیا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی تجارتی اعداد و شمار کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت میں تقریباً 1 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد اس کی قیمت 97 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ اسی طرح امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) بھی بڑھ کر 95 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ خلیجی معیار کے مطابق یو اے ای کا مربن کروڈ آئل بھی 96 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں یہ اضافہ صرف سیاسی کشیدگی کا نتیجہ نہیں بلکہ اس میں سپلائی چین سے متعلق خدشات اور عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی ہوئی طلب بھی شامل ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں غیر یقینی صورتحال کے باعث سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں، جس کا براہ راست اثر تیل کی قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔
مزیدپڑھیں:بلوچستان میں ایرانی پیٹرول کی نئی قیمت 280 روپے فی لیٹر مقرر
توانائی کے ماہرین کے مطابق اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے دنوں میں خام تیل کی قیمتیں مزید اوپر جا سکتی ہیں، جس کا اثر عالمی معیشتوں پر بھی پڑے گا۔
پاکستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے یہ صورتحال تشویشناک قرار دی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں اضافہ برقرار رہنے کی صورت میں ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے مہنگائی کا دباؤ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
ادھر حکومتیں اور توانائی مارکیٹس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، جبکہ سرمایہ کار مستقبل کی پالیسیوں اور جغرافیائی حالات کے حوالے سے غیر یقینی کیفیت کا شکار ہیں۔