تہران(نیوز ڈیسک)خلیجی خطے میں ایک مرتبہ پھر کشیدگی بڑھ گئی ہے، اور اس بار معاملہ صرف بیان بازی تک محدود نہیں رہا۔ 23 جون کو ایران کی جانب سے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملہ کیا گیا، جس کے بعد عالمی سیاسی و عسکری حلقے ہل کر رہ گئے۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے اس حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ العديد ایئر بیس کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای نے اس واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا، بلکہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران امریکی اڈوں تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہے  اور مستقبل میں ایسا حملہ دوبارہ ہو سکتا ہے۔

حملے کے پس منظر میں کیا ہوا؟
واقعے سے ایک روز قبل یعنی 22 جون کو امریکا نے اسرائیل کی معاونت کرتے ہوئے ایران کی تین اہم نیوکلیئر تنصیبات پر حملہ کیا۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر تصدیق کی کہ ایران کے شہروں فردو، نطنز اور اصفحان میں واقع جوہری مراکز پر حملے کیے گئے، جن میں فردو تنصیب مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔

ان حملوں کے بعد ایران کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا، جس کا اظہار پہلے فوجی کارروائی اور پھر بیانات کے ذریعے کیا گیا۔

ایرانی وزیرخارجہ کی شرائط: مذاکرات کی گنجائش باقی ہے؟
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے فرانسیسی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا اپنی غلطیوں کا ازالہ کرے اور مذاکرات کے دوران مزید حملے نہ کرنے کی تحریری ضمانت دے، تو ایران وقار اور باہمی احترام کی بنیاد پر مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ امریکی حملوں سے ایران کی جوہری تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے، اور ایران اس نقصان کا معاوضہ طلب کرنے کا حق رکھتا ہے۔ عباس عراقچی کی یہ باتیں اس بات کا اشارہ ہیں کہ ایران محض جنگ کا راستہ اختیار نہیں کرنا چاہتا، لیکن اگر چھیڑا گیا تو پیچھے بھی نہیں ہٹے گا۔

مستقبل کی صورتحال: کشیدگی بڑھے گی یا مذاکرات کا راستہ نکلے گا؟
یہ سوال اس وقت سب کے ذہن میں ہے کہ آیا امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی مزید بڑھے گی یا کوئی سفارتی حل نکل آئے گا۔ آیت اللّٰہ خامنہ ای کا بیان اور قطر میں امریکی اڈے پر حملہ ایک سخت پیغام ضرور ہے، لیکن عباس عراقچی کی مذاکرات کی مشروط پیشکش امید کی ایک کرن بھی دکھا رہی ہے۔

تاہم اگر امریکا کی جانب سے جارحانہ رویہ جاری رہا، تو ایران کی طرف سے جوابی کارروائیاں نہ صرف ممکن ہیں بلکہ مزید سنگین صورت اختیار کر سکتی ہیں، جو پورے مشرق وسطیٰ کو عدم استحکام کا شکار کر سکتی ہیں۔

خطے میں امن کا واحد راستہ،باہمی احترام اور سیاسی حکمت
قطر میں امریکی اڈوں پر ایرانی حملہ عالمی سطح پر طاقت کے توازن اور خطے کے استحکام کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ ایران نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری اور جوہری اثاثوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ایران نے مذاکرات کے دروازے بھی بند نہیں کیے، جو کہ ایک مثبت اشارہ ہے۔

یہ وقت ہے کہ عالمی طاقتیں بالخصوص امریکا اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کریں اور خطے میں پائیدار امن کے لیے باہمی احترام اور سفارتی راستے کو ترجیح دیں۔

Post Views: 4.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: میں امریکی ایران کے ایران کی

پڑھیں:

ایران کا بحرین میں ایمیزون کے ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنانے کا بڑا دعویٰ

تہران / منامہ: ایران کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین میں امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایمیزون کے ایک ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائی امریکا کے خلاف جاری جوابی اقدامات کا حصہ ہے۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے ایک بیان میں کہا کہ حملے کا ہدف امریکی کمپنی ایمیزون کی وہ ڈیٹا تنصیب تھی جو ان کے بقول امریکی فوج کو معلوماتی معاونت فراہم کرنے میں کردار ادا کر رہی تھی۔

بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ مذکورہ ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا تاہم ایرانی حکام نے اس دعوے کے حق میں فوری طور پر کوئی شواہد یا مزید تفصیلات پیش نہیں کیں۔

دوسری جانب خبر شائع ہونے تک امریکی کمپنی ایمیزون، بحرین کی حکومت یا امریکی حکام کی جانب سے ایران کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس حملے یا اس کے ممکنہ نقصانات کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

ایران نے ایک بار پھر اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں وہ تمام فوجی اڈے یا تنصیبات جو امریکا ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کرتا ہے، ایران کی نظر میں جوابی حملوں کے لیے جائز ہدف ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایران کے دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ پہلی بار ہوگا کہ کسی بڑی عالمی ٹیکنالوجی کمپنی کی تنصیب کو ایران نے براہِ راست اپنی فوجی کارروائی کا ہدف قرار دیا ہے۔ تاہم اس معاملے کی آزادانہ تصدیق کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران نے عراق کے ذریعے بھیجی گئی امریکی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی، امریکی اخبار کا دعویٰ
  • ایران جنگ، امریکی اسلحہ ذخائر کی بحالی میں 5 سال لگ سکتے ہیں، سابق پینٹاگون عہدیدار
  • ایران کا بحرین میں ایمیزون کے ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنانے کا بڑا دعویٰ
  • امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران