data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی: سندھ حکومت نے شہر قائد میں شدید بوسیدہ اور خطرناک عمارتوں کو فوری طور پر مسمار کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے، یہ فیصلہ لیاری میں پانچ منزلہ عمارت کے المناک حادثے کے بعد سامنے آیا، جس میں اب تک 27 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔

سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن، وزیر بلدیات سعید غنی اور وزیر داخلہ ضیا لنجار نے کراچی میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس کے دوران اس حوالے سے اہم اعلانات کیے۔

وزیر بلدیات سعید غنی نے کہا کہ انسانی جانوں کے نقصان کا کوئی ازالہ ممکن نہیں، تاہم سندھ حکومت متاثرہ خاندانوں کو مالی امداد فراہم کرے گی، حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ہر متاثرہ خاندان کو 10 لاکھ روپے دیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ لیاری واقعے کے بعد سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) کے اس وقت کے ڈائریکٹر لیول افسران کو معطل کر دیا گیا ہے، جبکہ 2022 میں عمارت کو مخدوش قرار دینے کے دوران تعینات افسران کے کردار کا بھی تعین کیا جا رہا ہے۔

سعید غنی نے انکشاف کیا کہ کراچی میں فی الوقت 51 عمارتیں انتہائی خستہ حالت میں ہیں اور فوری خطرے کا باعث بن سکتی ہیں، ہم نے کمشنر کراچی کو ہدایت دی ہے کہ 24 گھنٹوں میں ان عمارتوں میں رہنے والے یونٹس اور مکینوں کی تفصیل فراہم کریں تاکہ مسماری کا عمل شروع کیا جا سکے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ شہر میں مجموعی طور پر 588 عمارتیں خطرناک قرار دی گئی ہیں۔ ’’ان کا ازسرنو جائزہ لیا جائے گا تاکہ فیصلہ کیا جا سکے کہ کون سی عمارتیں مرمت کے قابل ہیں اور کون سی ناقابلِ رہائش ہوچکی ہیں۔

عوام سے اپیل کرتے ہوئے وزیر بلدیات نے کہا کہ شہری جب فلیٹ یا پلاٹ خریدیں تو یہ لازمی چیک کریں کہ اس منصوبے کے لیے متعلقہ اداروں سے تمام منظوریوں کا حصول ہوا ہے یا نہیں۔

پریس کانفرنس میں شرجیل انعام میمن نے کہا کہ لیاری کا واقعہ سندھ کے لیے ایک بہت بڑا سانحہ ہے۔ ’’پورے صوبے میں 740 عمارتیں ایسی ہیں جو خطرناک قرار دی جاچکی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ آج سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈی جی کو بھی معطل کر دیا گیا ہے اور ہم اس بات کی چھان بین کر رہے ہیں کہ سابق ڈی جیز نے ان معاملات میں کس حد تک غفلت برتی۔‘‘

وزراء نے واضح کیا کہ حکومت اب اس معاملے پر کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کرے گی اور عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: نے کہا کہ

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن