قصور میں بچی سے نازیبا حرکات کرنیوالا ملزم گولی لگنے سے مخصوص اعضا سے محروم
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
قصور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 جولائی 2025ء ) صوبہ پنجاب کے شہر قصور میں بچی سے نازیبا حرکات کرنے والا ملزم اپنا ہی پسٹل چلنے سے مخصوص اعضاء سے محروم ہونے کے بعد ہسپتال میں زیر علاج ہے۔ قصور پولیس نے تصدیق کی ہے کہ بچی کے ساتھ نازیبا حرکات کرنے والا ملزم اپنے پسٹل سے مخصوص اعضا پر فائر لگنے سے زخمی حالت میں گرفتار ہوا جس کے بعد اسے ہسپتال منتقل کردیا گیا، واقعے کی ویڈیو وائرل ہونے پر ڈی پی او قصور نے ایس ایچ او کو 24 گھنٹوں میں ملزم کی گرفتاری کا ٹاسک دیا تھا، اس کے علاوہ ڈی پی او قصور معصوم بچی کے گھر بھی پہنچے جہاں انہوں نے بچی کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھا اور گلدستہ پیش کیا۔
بچی کیساتھ نازیبا حرکات کرنیوالا ملزم اپنے پسٹل سے مخصوص اعضا پر فائر لگنے سے زخمی حالت میں گرفتار، ہسپتال منتقل
ویڈیو وائرل ہونے پر ڈی پی او قصور نے ایس ایچ او کو 24 میں گرفتاری کا ٹاسک دیا تھا،
ڈی پی او قصور معصوم بچی کے گھر پہنچے، سر پر شفقت کا ہاتھ رکھا اور گلدستہ پیش کیا pic.
(جاری ہے)
قصور : کھارہ روڈ شاہ عنایت کالونی میں کمسن بچی کے ساتھ درندگی کی کوشش.. pic.twitter.com/S2EVgIP7Kl
— Ather Salem® (@AthSa01) July 27, 2025 بتایا گیا ہے کہ یہ واقعہ قصور کے علاقہ کھارہ روڈ شاہ عنایت کالونی میں پیش آیا، جس کے بارے میں مسلم لیگ ن کی رکن پنجاب اسمبلی حنا پرویز بٹ نے کہا کہ وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے واقعہ کا سخت نوٹس لیا، جس کے نتیجے میں قصور میں بچی کے ساتھ درندگی کی کوشش کرنے والے درندے کو فوری طور پر گرفتار کر لیا گیا۔قصور میں بچی کے ساتھ درندگی کی کوشش کرنے والے درندے کو فوری گرفتار کر لیا گیا۔ وزیراعلی مریم نواز نے واقعہ کا سخت نوٹس لیا تھا https://t.co/ldZX1QO1cP pic.twitter.com/2yS8x6wPEJ
— Hina Parvez Butt (@hinaparvezbutt) July 28, 2025 اس حوالے سے مزید یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پولیس نے مطلوبہ ملزم کو سیف سٹی کیمروں کی مدد سے گرفتار کیا، ملزم کی شناخت ناصر علی کے نام سے ہوئی جو اوکاڑہ کا رہائشی ہے، ملزم کے خلاف تھانہ اے ڈویژن قصور میں مقدمہ نمبر 1027/25 بجرم 377B ت پ درج کرلیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کے ساتھ درندگی ڈی پی او قصور نازیبا حرکات قصور میں بچی بچی کے ساتھ کی کوشش
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
صدر پی ٹی آئی سندھ نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات کو متنازع بنانے کی کسی بھی کوشش سے گریز کیا جائے اور انتخابی عمل کو مکمل طور پر شفاف، غیر جانبدار اور منصفانہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو اپنا ووٹ آزادانہ طور پر استعمال کرنے کا مکمل حق حاصل ہے اور کسی قسم کی مداخلت یا دباؤ جمہوری اقدار کے منافی ہوگا۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ملک میں سیاسی استحکام کا راستہ صرف آزاد، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات سے ہو کر گزرتا ہے، عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی روایت نے ماضی میں پاکستان کو سیاسی اور معاشی بحرانوں سے دوچار کیا، اس لیے ضروری ہے کہ عوام کے فیصلے کا مکمل احترام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 8 فروری 2024ء کے عام انتخابات میں عوام نے اپنا واضح فیصلہ دیا تھا، تاہم عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔
حلیم عادل شیخ نے مطالبہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کو گلگت بلتستان میں انتخابی مہم چلانے کے مساوی اور آئینی حقوق فراہم کیے جائیں تاکہ تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع میسر آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کو ہر قسم کے دباؤ، جانبداری اور غیر ضروری مداخلت سے پاک رکھا جائے تاکہ عوام اپنی مرضی کے نمائندوں کا انتخاب کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام باشعور ہیں اور وہ اپنے ووٹ کی طاقت سے حقیقی نمائندوں کا انتخاب کریں گے، عوام کا فیصلہ ہی جمہوریت اور پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے انتخابات میں عوامی حمایت کے ساتھ بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔ حلیم عادل شیخ نے مزید کہا کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور عوامی خوشحالی ممکن نہیں، لہذا تمام متعلقہ حکام اس امر کو یقینی بنائیں کہ انتخابات مکمل طور پر شفاف اور منصفانہ ہوں اور عوام کے مینڈیٹ کا ہر صورت احترام کیا جائے۔