پاکستان کی فلسطینی ریاست کے قیام کی عالمی کوشش میں شمولیت
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
ڈپٹی وزیراعظم نے کہا کہ امید کرتے ہیں کہ اس کانفرنس میں 2 اہم اہداف حاصل کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کی جائیں گی، پہلا فوری جنگ بندی کو یقینی بنانا، اور دوسرا خوراک، انسانی امداد اور طبی سہولیات کی بلا رکاوٹ فراہمی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آج اقوام متحدہ کی ایک اعلیٰ سطح کی کانفرنس میں فرانس اور سعودی عرب کے ساتھ شرکت کرے گا، جس کا مقصد فلسطین کے مسئلے کے پرامن اور دو ریاستی حل کے نفاذ کو یقینی بنانا ہے، یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے نئی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی دہائیوں سے بالکل واضح ہے کہ فلسطین کے مسئلے کا واحد حل دو ریاستی حل ہے۔
انہوں نے فرانس اور سعودی عرب کی اس پہل کو قابلِ ستائش قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ یہ کانفرنس ٹھوس نتائج لائے گی۔ ڈپٹی وزیراعظم نے کہا کہ امید کرتے ہیں کہ اس کانفرنس میں 2 اہم اہداف حاصل کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کی جائیں گی، پہلا فوری جنگ بندی کو یقینی بنانا، اور دوسرا خوراک، انسانی امداد اور طبی سہولیات کی بلا رکاوٹ فراہمی کے ساتھ ساتھ فلسطین کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کی جانب پیش رفت۔
پاکستان کی کانفرنس میں شرکت اس کے دیرینہ اصولی مؤقف کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ ہمیشہ سے دو ریاستی حل کی حمایت کرتا آیا ہے، اسلام آباد نے گزشتہ برس اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اس مسئلے پر ایک عالمی کانفرنس کے حق میں ووٹ دیا تھا جو جون 2025 میں ہونی تھی، مگر وہ کانفرنس مقررہ وقت پر نہیں ہو سکی۔ پاکستان (جولائی 2025 میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت کر رہا ہے) نے 24 جولائی کو فلسطین کے مسئلے پر کھلا مباحثہ منعقد کیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کانفرنس میں
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔