حکومت نے شوگر ملز سے چینی کی خریداری کیلئے مختلف شرائط عائد کردیں
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
---فائل فوٹو
حکومت کی جانب سے شوگر ملز سے چینی کی خریداری کے لیے مختلف شرائط عائد کر دیں گئی ہیں۔
شوگرملز کے ذرائع کے مطابق شوگر ملز سے چینی کی خریداری کے لیے حکومت نے سیلز ٹیکس رجسٹریشن اور این ٹی این نمبر لازمی قرار دے دیا ہے، چینی کی خریداری کے لیے محکمہ لوکل گورنمنٹ سرٹیفکیٹ اور محکمہ خوراک کے رجسٹریشن سرٹیفکیٹ کے بغیر چینی نہیں ملے گی۔
شوگر ملز کے ذرائع کا کہنا ہے کہ نئی حکومتی شرائط کے مطابق شوگر ملز سے چینی کی خریداری کے لیے شوگر ڈیلرز کو آن لائن رقم بھجوانی پڑے گی۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ شوگر ڈیلرز اور ہول سیلرز کی بڑی تعداد سیلز ٹیکس رجسٹریشن سے محروم ہے۔
شوگر ملز کے ذرائع کے مطابق سیلز ٹیکس رجسٹریشن سرٹیفیکیٹ کی شرط سے مارکیٹ میں چینی کے حوالے سے غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے، حکومت کی نئی شرائط کے باعث بروقت خریداری نہ ہونے پر چینی کی فی کلو قیمت 200 روپے تک پہنچ سکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: شوگر ملز سے چینی کی خریداری چینی کی خریداری کے لیے
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔