ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی) نے ایک لاکھ میٹرک ٹن چینی درآمد کا ایک اور بڑا ٹینڈر جاری کر دیا،
31 جولائی تک کامیاب بولی دینے والے کو چینی درآمد پر 5 فیصد گارنٹی جمع کرانی ہوگی جب کہ اسرائیل اور بھارت سے سفید چینی درآمد کرنے پر مکمل پابندی ہوگی۔

ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کے مطابق ٹی سی پی نے ایک لاکھ میٹرک ٹن سفید چینی کا دوسرا بین الاقوامی ٹینڈر جاری کر دیا، سفید چینی درآمد کرنے کی کم از کم بولی 25 ہزار میڑک ٹن اور 50 کلو گرام نئے بیگ کے ساتھ ہوگی اور 21 اگست سے 5 ستمبر تک چینی درآمد کرنے کی اجازت ہوگی اور تمام کارگو 30 ستمبر تک پہنچیں گے۔

بیان میں کہا گیا کہ چینی درآمد کرنے کیلئے 25 ہزار میٹرک ٹن کی دو شپمنٹ یا ایک 50 ہزار میٹرک ٹن شپمنٹ کی اجازت ہوگی۔
ٹی سی پی کے مطابق 31 جولائی تک کامیاب بولی دینے والے کو چینی درآمد کرنے پر 5 فیصد گارنٹی جمع کرانی ہوگی، اسرائیل اور بھارت سے سفید چینی درآمد کرنے پر مکمل پابندی ہوگی۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ چینی کی شپمنٹ میں تاخیر ہونے سے 0.

25 ڈالر فی میٹرک ٹن یومیہ جرمانہ عائد کیا جائے گا اور چینی درآمد کرنے کے لئے لیٹر آف کریڈٹ کی ذمہ داری ٹی سی پی کی ہوگی۔
مزید بتایا گیا کہ سفید چینی کی درآمد کا معیار پی ایس کیو سی اے کے مطابق ہوگا۔

Post Views: 9

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی

سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔

فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔

حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔

ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘

ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔

یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی