میٹرک بورڈ ملتان کے امتحان میں رکشہ ڈرائیور کا بیٹا سب پر بازی لے گیا
اشاعت کی تاریخ: 25th, July 2025 GMT
میٹرک بورڈ ملتان کے امتحان میں رکشہ ڈرائیور کا بیٹا سب پر بازی لے گیا WhatsAppFacebookTwitter 0 25 July, 2025 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس) محنت اور لگن ہو تو کم وسائل میں بھی بہترین نتائج دیے جا سکتے ہیں، کچھ ایسا ہی دیکھنے میں آیا تعلیمی بورڈ ملتان کے نتائج میں جس میں رکشہ ڈرائیور کے بیٹے محمد احمد نے آرٹس گروپ میں 1161 نمبر حاصل کرکے پہلی پوزیشن حاصل کی۔
محمد احمد کا تعلق بورے والا کے ایک گاؤں سے ہے، انہوں نے مدرسہ جامعہ حنفیہ سے میٹرک کا امتحان دیا اور میٹرک کے سالانہ امتحانات میں آرٹس گروپ میں 1161 نمبر حاصل کرکے پہلی پوزیشن حاصل کی۔
محمد احمد کے والد رکشہ چلاتے ہیں اور ان کی خواہش تھی کہ وہ تو نہیں پڑھے لیکن ان کا بیٹا ان کا نام روشن کرے۔
آرٹس گروپ میں فرسٹ پوزیشن حاصل کرنے والے محمد احمد کا کہنا ہے میرا تعلق ایک غریب گھرانے سے ہے اور میرے والد رکشہ چلاتے ہیں لیکن انہوں نے ناصرف معاشی طور پر سپورٹ کیا بلکہ بہت زیادہ حوصلہ افزائی بھی کی۔
محمد احمد کے والد محمد افضل کا کہنا ہے میں رکشہ چلاتا ہوں اور ان پڑھ ہوں لیکن میری خواہش ہے کہ بچہ میرا پڑھ جائے، آج میں بڑا خوش ہوں کہ بچہ میرا پڑھ گیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرفرانس کا ستمبر میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان مغربی کنارے کا الحاق غیر قانونی، عالمی برادری اسرائیل کو جواب دہ ٹھہرائے: پاکستان اسلامی نظریاتی کونسل نے ماں اوربچے کی صحت کیلئے بچوں کی پیدائش میں مناسب وقفہ ناگزیرقراردیدیا قائد حزب اختلاف قومی اسمبلی عمر ایوب خان کا مستونگ آپریشن کے شہدا کو خراجِ عقیدت وزیراعظم ہاوس میں جرگہ، میڈیکل کالجز اور انجینئرنگ یونیورسٹیوں میں ضم شدہ اضلاع کا کوٹا بحال چھبیس نومبر احتجاج، حکومت پنجاب کا 20ملزمان کی ضمانتیں منسوخ کرانے کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کا فیصلہ صوبائی عہدیدار ڈی آئی خان میں طالبان کو کتنے پیسے دیتا ہے؟، محسن نقوی کا علی امین گنڈا پور پر طنزCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔