چینی کے ایکسپورٹرز اور ڈیلرز کیخلاف تحقیقات شروع، کئی مل مالکان و ڈیلرز کو بیرون ملک جانے سے روک دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, July 2025 GMT
چینی کے ایکسپورٹرز اور ڈیلرز کیخلاف تحقیقات شروع، کئی مل مالکان و ڈیلرز کو بیرون ملک جانے سے روک دیا گیا WhatsAppFacebookTwitter 0 26 July, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز )وفاقی حکومت نے چینی کے ایکسپورٹرزاورڈیلرزکیخلاف تحقیقات کاآغازکردیا اور کئی مل مالکان اورشوگرڈیلرز کو بیرون ملک جانے سے روک دیا گیا۔ذرائع وزارت پیداوار کے مطابق حکومتی معاہدے کے بعد بھی شوگر ملز مالکان اور ڈیلرز کی طرف سے چینی کی قیمتوں میں کمی ممکن نہیں ہوسکی جس پر وفاقی حکومت ناراض ہے۔ ذرائع نے بتایاکہ متعدد شوگر ملز مالکان اور ڈیلرز کو بیرون ملک سفر سے روک دیا گیا ہے اور پہلے مرحلے میں شوگر ڈیلرز کے نام ای سی ایل میں ڈالے جارہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق دسمبر میں چینی ایکسپورٹ کرنے والے ملز مالکان، ڈیلرز اور بیوروکریٹس سے باز پرس کی جائے گی اورذمہ داران کا تعین کیا جائے گا۔ذرائع وزارت پیداوار کا کہنا ہے کہ متعلقہ بیوروکریٹس سے بھی تفتیش کی جائے گی، ان اقدامات کا مقصد چینی کی قیمتوں اورسپلائی میں استحکام لانا ہے۔ ذرائع کے مطابق چینی 170 روپے کے لگ بھگ قیمت یقینی بنائی جائے گی تاکہ عوام سکھ کا سانس لیں۔دوسری جانب ملک میں چینی کی سب سے بڑی تھوک منڈی “اکبری مارکیٹ” سے چینی غائب ہوگئی اور چینی کا نیا بحران سر پر منڈلانے لگا۔
اکبری منڈی کے سوداگروں کے مطابق شوگر ملز مالکان نے 165 روپے کلو ایکس مل پرائس پر فراہمی کی شرط تو مان لی لیکن چینی کی فراہمی بند کردی ہے، اکبری منڈی میں چینی کا اسٹاک خاتمے کے قریب ہے، کئی روز سے شوگر ملز نے چینی فراہم نہیں کی ہے۔ادھرپاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے مطابق شوگر ملیں 165 روپے ایکس مل قیمت پر چینی فراہم کر رہی ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرحکومت چلانے کیلئے آپ کے مشوروں کی ضرورت نہیں، گورنر پنجاب کے خط پر عظمی بخاری کا ردعمل حکومت چلانے کیلئے آپ کے مشوروں کی ضرورت نہیں، گورنر پنجاب کے خط پر عظمی بخاری کا ردعمل بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کیلئے ترسیلات زر کی سہولت اسکیم جاری رکھنے کا فیصلہ وزیراعظم اور امیر جماعت اسلامی کے درمیان رابطہ، غزہ میں جاری اسرائیلی بربریت پر اظہار تشویش ڈونلڈ ٹرمپ تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کی جنگ رکوانے کی کوششوں میں لگ گئے اٹلی سے روانہ ہونے والی امدادی کشتی ‘حنظلہ’ غزہ سے 150 کلومیٹر کی دوری پر پہنچ گئی پی ٹی آئی مالی بحران کا شکار، سیکریٹریٹ کے ملازمین کی تنخواہوں میں 50 فیصد کمیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ڈیلرز کو بیرون ملک سے روک دیا گیا ملز مالکان اور ڈیلرز کے مطابق شوگر ملز چینی کی
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔