یا حاجی ،یا حاجی کی صدائیں لگاتے پاکستانی حجاج کرام کی خدمت پر معمور 3 خادمین حجاج کی ٹیم
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
مدینہ منورہ!! (نمائندہ نوائے وقت) یا حاجی ،یاحاجی کی صدائیں حجاج کو مدینہ منورہ اور مکہ میں گزرے لمحات زندگی بھر یاد رہیں گئے اور یہ آوازوں سننے کے لئے اب کان ترسیں گئے ۔ مدینہ کی گلیوں سے گزرتے ہوئے یا حاجی ،یاحاجی کی صدائیں رس گھولتی ہوئی کانوں میں آتی تھی۔ حجاج کا وطن واپسی پر جاتے ہوئے تاثرات جج سیزن 2025 10 جولائی کو مکمل ہو گیا ہے۔ جس میں تمام شعبہ معاونین حجاج اور خادمین نے احسن طریقہ سے خدمات دیکر حجاج سے دعائیں بھی لیں۔ جبکہ مدینہ منورہ 03 خادمین حجاج کی ٹیم جن کے فرائض منصبی حجاج کرام کو ہوٹلوں ٹھہرانا اور کمرہ تقسیم کرنا تھا جو ایک اہم فریضہ ہوتا ہے اس ٹیم میں ابراہیم بٹ ،ارسلان اور حمزہ نے پورے حج سیزن سرکاری حج سکیم 23433 حجاج کرام منظم طریقہ سے رہائشیوں ٹھہرانے اور دیکھ بھال کا اعزاز جاتا ہے۔ ان تینوں ابراہیم بٹ ،ارسلان اور حمزہ نے نمائندہ نوائےوقت کو بتایاکہ بیک وقت 250 سے 300 حجاج کو ہوٹل میں ٹھہرانا اور ان کے مسائل بروقت حل کرنا اور انکا سامان کمرہ میں پہچانے کا کام کرنا ہماری ٹیم کے لئے اعزاز ہے۔ ہم نے 23 ہزار سے زائد حجاج کرام کی خدمت کا موقع ملا اور ان سے دعائیں لیں دین اور دنیا دونوں سے ہم مستفید ہوئے اور ہمارے لئے اعزاز ہے کہ ہم ڈائریکڑ حج مدینہ منورہ کی تعلمیات پر پورہ عمل کرتے ہوئے اللہ کے مہمان حجاج کی خدمت کی اور دعائیں لی ہیں آئندہ سالوں میں بھی اسی جذبے سے کام کریں گئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔