شام کی صورتحال پر فرانسوی صدر اور ابو محمد الجولانی کے درمیان رابطہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, July 2025 GMT
امانوئل میکرون سے اپنی ایک ٹیلیفونک گفتگو میں شام پر قابض گروہ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ بیرونی قوتوں، خاص طور پر اسرائیل کیجانب سے اس صورتحال سے ناجائز فائدہ اٹھانے یا شام کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی کوئی بھی کوشش قطعاً قبول نہیں ہو گی۔ اسلام ٹائمز۔ فرانس کے صدر "امانوئل میکرون" اور شام پر قابض گروہ کے سربراہ "احمد الشرع" المعروف "ابو محمد الجولانی" کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔ جس میں شام کی تازہ ترین صورت حال، ملک میں استحکام اور مسائل کے سیاسی حل کا جائزہ لیا گیا۔ اس کے علاوہ علاقائی و بین الاقوامی مسائل بھی اس گفتگو کا حصہ رہے۔ اس موقع پر امانوئل میکرون نے کہا کہ پیرس، دمشق کی وحدت، خودمختاری اور سالمیت کے تحفظ کے لئے پُرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ مستحکم شام ایک علاقائی ضرورت اور انسانی ترجیح ہے۔ انہوں نے اسرائیل کی جانب سے حالیہ کشیدگی میں اضافے اور شام کی خودمختاری کی مسلسل خلاف ورزی کی سختی سے مذمت کی۔ امانوئل میکرون نے شام کی علاقائی وحدت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہتھیاروں کا کنٹرول صرف حکومت کے پاس ہونا چاہئے۔ انہوں نے بین الاقوامی عناصر سے مطالبہ کیا کہ وہ شام کے معاملات میں منفی مداخلت سے گریز کریں۔ فرانسوی صدر نے اس بات کا یقین دلایا کہ وہ شام کی تعمیر نو اور بہتری کے مرحلے میں مدد کے لیے تیار ہیں۔ جس میں تکنیکی اور انسانی امداد، نیز فرانسیسی پرائیویٹ سیکٹر کو بتدریج شام کی مارکیٹ میں واپس آنے کی ترغیب شامل ہے۔
دوسری جانب ابو محمد الجولانی کے نام سے شہرت پانے والے احمد الشرع نے شامی عوام کے تحفظ، خود مختاری اور استحکام کے حق میں فرانس کے متوازن و حمایتی موقف کو سراہا۔ انہوں نے حالیہ صوبہ سویداء کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں جو کچھ ہوا وہ غیرقانونی مسلح گروہوں کی قیادت میں امن و امان کی خرابی کا نتیجہ ہے، جو حکومت کے خلاف بغاوت کرتے ہیں اور طاقت کے ذریعے اثر و رسوخ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس صورت حال کو جاری رہنے کی اجازت نہیں دے گی۔ حکومت اس خطے میں امن کی بحالی، مجرموں کے ٹرائل اور سرکاری اداروں کو فعال بنانے کی ذمہ داری پوری طرح اٹھائے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بیرونی قوتوں، خاص طور پر اسرائیل کی جانب سے اس صورتحال سے ناجائز فائدہ اٹھانے یا شام کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی کوئی بھی کوشش قطعاً قبول نہیں ہو گی۔ گفتگو کے اختتام پر دونوں فریقین نے اتفاق کیا کہ وہ باہمی رابطے جاری رکھیں گے۔ شام کی خودمختاری اور عوام کے مفادات کے پیش نظر انسانی، معاشی اور سیاسی مسائل کو حل کرنے کے لیے مشترکہ بات چیت کے راستے کھلے رکھیں گے۔