سندھ اور بلوچستان میں غیرقانونی منی ایکسچینج کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 26th, July 2025 GMT
ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ساؤتھ مجاہد اکبر خان نے کراچی اور حیدرآبادمیں خصوصی کارروائی کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ ہدایات میں کہا گیا ہے کہ غیرقانونی منی چینجرز اور غیرملکی کرنسی کا ذخیرہ کرنیوالوں کیخلاف بھی کارروائی ہوگی۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے سندھ اور بلوچستان زون کو غیرقانونی منی ایکسچینج نیٹ ورکس کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن شروع کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ساؤتھ نے کراچی اور حیدرآبادمیں خصوصی کارروائی کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ غیرقانونی منی چینجرز اور غیرملکی کرنسی کا ذخیرہ کرنیوالوں کیخلاف بھی کارروائی ہوگی۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر ساؤتھ ایف آئی اے مجاہد اکبر خان نے کریک ڈاؤن کی ہدایات جاری کیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔