کراچی کے علاقے منگھوپیر میں محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ڈی ڈی) کی کارروائی کی چینی شہریوں پر حملے میں ملوث خودکش حملہ آور سمیت 3 خوارج ہلاک ہوگئے۔
تفصیلات کے مطابق سی ٹی ڈی نے دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر کراچی کے علاقے منگھوپیر میں مکان پر چھاپہ مارا، اس دوران مکان میں موجود دہشت گردوں نے سی ٹی ڈی پر فائرنگ کردی۔
جوابی کارروائی میں خودکش حملہ آور سمیت 3 خوارج مارے گئے، ڈی ایس پی سی ٹی ڈی راجا عمر خطاب نے سول ہسپتال میں میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ سی ٹی ڈی اور حساس اداروں نے مشترکہ کارروائی کے دوران کراچی کے علاقے منگھوپیر میں دہشت گردوں کے خلاف کامیاب آپریشن کیا، جس میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد مارے گئے۔
راجا عمر خطاب نے بتایا کہ سیکیورٹی اداروں نے منگھوپیر میں ایک مکان پر چھاپہ مارا جہاں دہشت گرد موجود تھے، اور آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں انہیں ہلاک کر دیا گیا، ہلاک دہشت گرد زعفران کے سر پر حکومت نے 2 کروڑ روپے انعام رکھا ہوا تھا، مکان سے دستی بم، خودکش جیکٹس اور ڈائری ملی جس میں اہداف درج تھے۔
راجا عمر نے مزید بتایا کہ ہلاک دہشت گرد گزشتہ سال چینی شہریوں پر حملے میں بھی ملوث تھے۔

گزشتہ سال چینی شہریوں پر حملے کے بعد ڈی آئی جی جنوبی سید اسد رضا نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ انجینئرز اور سیکیورٹی گارڈ کے درمیان تلخ کلامی کے نتیجے میں پیش آیا، تاہم اصل وجہ جاننے کے لیے مزید تفتیش جاری ہے۔
انہوں نے بتایا تھا کہ ایک نجی سیکیورٹی کمپنی کے سپروائزر اور تین سیکیورٹی گارڈز کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لے لیا گیا ہے، جب کہ فائرنگ میں ملوث گارڈ کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں، ڈی آئی جی نے مزید کہا تھا کہ مشتبہ گارڈ کے گھر کا پتہ لگا لیا گیا ہے اور تفتیشی ٹیمیں اس کے پڑوسیوں سے معلومات اکٹھی کر رہی ہیں۔
پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتوں میں حالیہ عرصے کے دوران خاصا اضافہ ہوا ہے، خصوصاً خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں، جہاں نومبر 2022 میں ٹی ٹی پی کی جانب سے حکومت کے ساتھ جنگ بندی ختم کیے جانے کے بعد سے حملوں میں شدت آئی ہے۔
یہ حملے زیادہ تر پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بناتے رہے ہیں، تاہم گزشتہ چند برسوں میں پاکستان میں چینی شہریوں کو بھی کئی بار دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کی 2024 میں شائع شدہ ایک رپورٹ کے مطابق 2021 سے اب تک دہشت گرد حملوں میں 20 چینی شہری ہلاک اور 34 زخمی ہو چکے ہیں۔
اکتوبر 2024 میں کراچی ایئرپورٹ کے قریب ایک خودکش حملے میں، جس کی ذمہ داری کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبول کی، 2 چینی باشندے جاں بحق اور 10 زخمی ہوئے تھے۔
مارچ 2024 میں خیبر پختونخوا کے علاقے بشام میں چینی ورکروں کو نشانہ بنایا گیا، جس میں 5 چینی شہری ہلاک ہوئے، اس حملے کی ذمہ داری یا تو ٹی ٹی پی سے منسلک کسی گروپ یا داعش خراسان پر عائد کی گئی تھی۔
اپریل 2022 میں جامعہ کراچی میں واقع کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ کے باہر خودکش دھماکے میں 3 چینی باشندوں سمیت 4 افراد جاں بحق اور 4 زخمی ہوئے تھے۔
پاکستان میں چینی شہریوں پر ہونے والے حملوں میں اضافے نے بیجنگ میں سی پیک منصوبوں کے حوالے سے سیکیورٹی خدشات کو شدید کر دیا ہے۔
اکتوبر 2024 کے آخر میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چین کے سفیر جیانگ زی ڈونگ نے چینی شہریوں پر حملوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور اسے ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے اسلام آباد سے مطالبہ کیا کہ وہ چینی شہریوں کے تحفظ کے لیے موثر اقدامات کرے اور چین مخالف عناصر کے خلاف سخت کارروائی کرے۔
سابق ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے چینی سفیر کے بیان کو حیران کن اور دونوں ممالک کے طویل سفارتی تعلقات سے نمایاں انحراف قرار دیا تھا۔

Post Views: 5.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: چینی شہریوں پر حملے منگھوپیر میں کے علاقے حملے میں سی ٹی ڈی کے لیے

پڑھیں:

کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ

 ٹریفک پولیس کی جانب سے شہریوں کے لیے ’’روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ‘‘ کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ٹریفک پولیس نے شہریوں کو بہتر سہولیات کی فراہمی، روڈ سیفٹی کے فروغ اور عوام دوست پولیسنگ کے وژن کو مزید مؤثر بنانے کے لیے "روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ" قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

روڈ سیفٹی آفیسرز شہر کی اہم اور مصروف شاہراہوں بشمول شاہراہ فیصل ، ماڑی پور روڈ ، کورنگی روڈ اور شاہراہ لیاقت پر تعینات کیے جائیں گے جہاں وہ ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے، شہریوں کو متبادل راستوں اور سفری سہولیات سے متعلق معلومات فراہم کرنے اور بروقت مدد کے فرائض انجام دیں گے۔

ترجمان کے مطابق یونٹ کے قیام سے شہریوں کو محفوظ سفری ماحول میں رہنمائی ملے گی ، یہ یونٹ شہریوں اور ٹریفک پولیس کے درمیان رابطے کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ دوران سفر پیش آنے والی مشکلات کے فوری حل اور مؤثر رہنمائی میں اہم کردار ادا کریگا۔

یونٹ کا مقصد ٹریفک قوانین ، روڈ سیفٹی اقدامات اور ذمہ دارانہ طرز ڈرائیونگ کے حوالے سے عوامی شعور اجاگر اور اس میں مزید اضافہ کرنا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 6 زخمیوں سمیت 9 ڈاکو گرفتار
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • کراچی، محسن نقوی کا صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹر کا اچانک دورہ