راولپنڈی: غیرت کے نام پر جرگے کے حکم پر قتل کی گئی لڑکی کی قبر کشائی مکمل
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
راولپنڈی کے علاقے پیرودھائی میں غیرت کے نام پر جرگے کے حکم پر قتل کی گئی لڑکی کے قتل کے مقدمے میں علاقہ مجسٹریٹ کی موجودگی میں قبر کشائی کا عمل مکمل کرلیا گیا، پولیس نے جرگے کے سربراہ سمیت مزید 3 ملزمان کو گرفتار کرلیا۔تفصیلات کے مطابق میڈیکل ٹیم نے خاتون کی ڈیڈ باڈی کے نمونے حاصل کرلیے، قبر کشائی کے وقت میڈیکل ٹیم، میٹرو پولیٹن اور پولیس کا عملہ موقع پر موجود رہا، قبر کی نشاندہی کے لیے گرفتار ملزمان کو بھی لایا گیا تھا، بعد ازان ملزمان کو واپس تھانے منتقل کر دیا گیا۔پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری کی 2 رکنی ٹیم بھی سیمپل لینے پیرودہائی قبرستان پہنچ گئی تھی۔قبر کشائی کے وقت قناطیں اور حصار قائم کر کے میڈیکل ٹیم، میٹرو پولیٹن اور پولیس کا عملہ موقع پر موجود رہا۔ملزم گورگن راشد محمود نے علاقہ مجسٹریٹ کی موجودگی میں خاتون کی قبر کی نشاندہی کی۔ہولی فیملی ہسپتال کی لیڈی ڈاکٹر نے ڈیڈ باڈی کے نمونے حاصل کرلیے، جو بعد میں فرانزک کے لیے لیبارٹری کو بھجوائے جائیں گے۔ملزمان نے 16 اور 17 جولائی کی شب خاتون کو قتل کرنے کے بعد لاش کو صبح کے وقت چھتی قبرستان میں دفنا دیا تھا۔خاتون کی تدفین کے بعد گورکن اور 25 افراد نے قبر کے شواہد مٹا دیے تھے، 3 ملزمان جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہیں۔قبر کشائی کے بعد راولپنڈی پولیس نے سابق وائس چیرمین عصمت اللہ سمیت مزید تین ملزمان کی ملزمان کی گرفتاری ڈال دی، مقدمے میں گرفتار ملزمان کی مجموعی تعداد 7 ہو گئی۔گورکن،قبرستان کمیٹی کا سیکریٹری اور رکشہ ڈرائیور پہلے ہی گرفتار ہیں، پوسٹ مارٹم کے لیے آنے والی لیڈی ڈاکٹر واپس روانہ ہو گئی ہیں، جب کہ پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری کی دو رکنی ٹیم بھی سیمپل لینے پیرودہائی قبرستان پہنچی ہے۔واضح رہے کہ اس سے قبل راولپنڈی کی میں فوجی کالونی میں جرگے کے حکم پر خاتون کو قتل کرنے کے واقعہ میں اہم پیشرفت سامنے آئی تھی، مقتولہ کا مبینہ دوسرا خاوند عثمان پیر ودھائی پولیس کے سامنے پیش ہوگیا تھا، جب کہ اس کے والد کا اہم بیان بھی سامنے آگیا تھا، خاتون کو غیرت کے نام پر قتل کرنے کا فیصلہ سنانے والے ملزم عصمت اللہ کی جانب سے ہی اس کی نماز جنازہ پڑھانے کا انکشاف ہوا تھا۔مقتولہ سدرہ کا دوسرا نکاح 14 جولائی کو مظفر آباد میں عثمان کے ساتھ ہوا تھا، مقتولہ کے سسر محمد الیاس کا ویڈیو بیان سامنے آیا تھا، جس کے مطابق اس کا بیٹا عثمان پیر ودھائی میں بطور مکینک کام کرتا تھا، بیٹا سدرہ کو اپنے ساتھ گھر لے آیا جس پر دونوں کا نکاح کروایا تھا۔مقتولہ کے سسر کے مطابق لڑکی نے بتایا وہ قرآن کی حافظہ ہے، اور اس کا والد فوت ہوگیا ہے جبکہ اس کی والدہ نے چچا سے شادی کرلی ہے، سسر کے مطابق سدرہ نے بتایا کہ چچا اس کی شادی بڑی عمر کے شخص سے کروانا چاہتا ہے، لڑکی نے اہل خانہ کی دھمکیوں سے متعلق آگاہ کیا تھا، نکاح کے 3 دن بعد 8 سے 10 مسلح افراد ہمارے گھر مظفر آباد آئے اور دھمکیاں دیں۔انہوں نے کہا کہ گھر آئے مسلح افراد سدرہ کو اپنے ساتھ زبردستی راولپنڈی لے آئے اور بعد میں قتل کر دیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
ABN نیوز نے مبینہ جعلی بین الاقوامی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا
راولپنڈی(نیوز ڈیسک)راولپنڈی میں مبینہ طور پر جعلی بین الاقوامی ویکسی نیشن سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا انکشاف ہوا ہے، جس سے صحت کی جعلی دستاویزات پر خدشات بڑھ گئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق، اے بی این نیوز نے شہر میں کام کرنے والے مبینہ جعلی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ نیٹ ورک کا سراغ لگانے کا دعویٰ کیا ہے۔ نیٹ ورک پر افراد کو جعلی بین الاقوامی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا شبہ ہے۔
رپورٹ نے سرکاری صحت کے ریکارڈ کے غلط استعمال اور صحت عامہ اور بین الاقوامی سفری تعمیل کے لیے ممکنہ خطرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
حکام سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ الزامات کی تحقیقات کریں گے اور اگر دعوے درست ثابت ہوئے تو ملوث پائے جانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کریں گے۔