پی ٹی آئی کارکنوں کو اسلام آباد کی عدالت سے بڑاریلیف مل گیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
اسلام آباد:ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے 4 کارکنان کو پاپو ایکٹ کے تحت سنائی گئی سزا معطل کر دی۔
تفصیلات کے مطابق جوڈیشل مجسٹریٹ مرید عباس نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے سزا معطلی کی درخواست منظور کر لی۔ عدالت میں سماعت کے دوران پی ٹی آئی کے وکلا سردار مصروف خان اور زاہد بشیر ڈار نے کارکنان کی پیروی کی۔
سزا معطل کیے جانے والے ملزمان میں دانش، عیسیٰ، اعجاز اور محمد عیسیٰ شامل ہیں، جنہیں تھانہ ترنول میں درج مقدمے میں 6، 6 ماہ قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں ہدایت دی کہ ملزمان 30 دن کے اندر اپیل دائر کریں، تاکہ مقدمے کی مزید کارروائی آگے بڑھائی جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔