رکن اسمبلی نے کہا کہ دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد جسطرح نیشنل کانفرنس کی سیاسی جماعتیں 13 جولائی کے شہیدوں کو خراج پیش کرتے آئے ویسے ہی آج بھی ہم شہید مقبر جاکر فاتحہ خوانی کرنا چاہتے ہیں جو کہ کچھ نیا نہیں ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے ترجمان اعلٰی اور رکن اسمبلی تنویر صادق نے کہا کہ 13 جولائی کو منعقد ہونے والی تقریبات سے نیشنل کانفرنس اور اس میں کسی کو بھی کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اس تعلق سے ایل جی انتظامیہ سے تحریری اجازت مانگی ہیں اور امید ہے نیشنل کانفرنس کو تقریب میں شرکت کی اجازت دی جائے گی۔ ان باتوں کا اظہار تنویر صادق آج سرینگر میں نامہ نگاروں کے ساتھ بات چیت کے دوران کیا۔ تنویر صادق نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے 13 جولائی کے شہیدوں کو ہمیشہ خراج عقیدت پیش کیا ہے اور پیش کرتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کشمیر کی قربانی کو کسی بھی صورت میں فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے، جو ہم آج یہاں کھڑے وہ انہیں کی بدولت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری ان شہداء کی بڑی عزت کرتے ہیں اور انہیں عزت کرنے دینا چاہیئے۔

انہوں نے دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد جس طرح جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کی سیاسی جماعتیں 13 جولائی کے شہیدوں کو خراج پیش کرتے آئے ویسے ہی آج بھی ہم شہید مقبر جاکر فاتحہ خوانی کرنا چاہتے ہیں جو کہ کچھ نیا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اجازت کے حوالے سے نیشنل کانفرنس نے ایل جی انتظامیہ سے اجازت کے لیے درخواست بھیجی ہے اور امید ہے کہ ہمیں اجازت دی جائے گی جبکہ اس میں کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیئے۔ انہوں نے بی جی پی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کشمیریوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچاتی رہی اور 13 جولائی کے شہداء کے تعلق سے وہ کوئی بھی رائے کیوں نہ رکھتی ہو۔ نیشنل کانفرنس انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور دیکھتی رہے گے۔

اس سے قبل تنویر صادق نے کہا کہ تھا ہم 13 جولائی کی تعطیلات کو بہت جلد بحال کرائیں گے۔افسوس ہے کہ جنہوں نے بی جے پی کے ساتھ ہاتھ ملایا اور جن کی وجہ سے 2019ء میں جو ہوا ہم پر انگلیاں اٹھاتے ہیں۔ انہوں نے کہا ہم نے اجازت طلب کی ہے جب حکمراں جماعت نے اجازت طلب کی ہے تو اس میں امن و قانون کا کوئی مسئلہ نہیں ہوسکتا ہے۔ واضح رہے کہ 13 جولائی "یوم شہداء" ہے اس دن جموں و کشمیر میں عام تعطیلات ہوا کرتی تھی لیکن 2019ء میں دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد اس چھٹی کو منسوخ کیا گیا۔ ایسے میں 13 جولائی کے شہداء کی قربانی کو نہ صرف علحیدگی پسند بلکہ جموں و کشمیر کی مین اسٹریم جماعتیں بھی یاد کرتے ہیں اور یہاں کی سیاسی جماعتوں کے لیڈران شہداء کے مقبر جاکر انہیں خراج تحسین کے طور پر گل باری اور فاتح خوانی کرتے ہیں تاہم بی جے پی اس دن کی سخت مخالفت کرتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس تنویر صادق جولائی کے بی جے پی

پڑھیں:

مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی

مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔

دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔

سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • آزاد کشمیر مہاجرین نشستوں کے معاملے پر وفاقی حکومت نرم
  • اسکردو: معرکہ حق دوسری سرفرنگا نیشنل میراتھن 2026 کا کامیاب انعقاد
  • کشمیر کا وہ گاوٴں جس کے باسی فون چارج کرنے کے لیے 45 کلومیٹر دور جاتے ہیں
  • گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی