ٹیکس اور مالی معاملات سے متعلق تمام آئینی درخواستوں کی سماعت اور فیصلہ ہائی کورٹ کے سنگل بنچ کے بجائے ڈویژن بنچ کرے گا. نیشنل جوڈیشل کمیٹی
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔12 جولائی ۔2025 )نیشنل جوڈیشل کمیٹی (این جے پی ایم سی) نے فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ ٹیکس اور مالی معاملات سے متعلق تمام آئینی درخواستوں کی سماعت اور فیصلہ ہائی کورٹ کے سنگل بنچ کے بجائے ڈویژن بنچ کرے گا نیشنل جوڈیشل کمیٹی کا 53 واں اجلاس سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی صدارت میں منعقد ہوا اجلاس میں تمام ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان شریک ہوئے، جبکہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل پاکستان نے خصوصی دعوت پر شرکت کی.
(جاری ہے)
کمیٹی نے اہم پالیسی امور پر غور کیا اور عدالتی کارکردگی کو بہتر بنانے، عدالتی نظام میں ٹیکنالوجی کے انضمام اور عوامی مفاد پر مبنی انصاف کی فراہمی کے لیے کئی اہم اقدامات کی منظوری دی این جے پی ایم سی نے جبری گمشدگیوں کا سختی سے نوٹس لیا اور متفقہ طور پر یہ قرار دیا کہ عدلیہ بنیادی حقوق کے تحفظ کے اپنے آئینی فریضے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی. اس سلسلے میں ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی جو ایگزیکٹو کی تشویشات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک ادارہ جاتی ردعمل مرتب کرے گی جسے اٹارنی جنرل آف پاکستان کے ذریعے آگاہ کیا جائے گا کمیٹی نے عدالتی افسران کو بیرونی دباﺅ سے محفوظ رکھنے کا بھی فیصلہ کیا اور تمام ہائی کورٹس کو ہدایت دی کہ وہ ایسے واقعات کی رپورٹنگ اور ان کے ازالے کے لیے مقررہ مدت کے اندر ایک منظم طریقہ کار قائم کریں. تجارتی تنازعات کے حل کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے این جے پی ایم سی نے خصوصی عدالتوں اور بنچوں پر مشتمل کمرشل لِیٹیگیشن کاریڈور کے قیام کی منظوری دی فوری انصاف کی فراہمی کے اپنے عزم کے تحت کمیٹی نے ضرورت کی بنیاد پر منتخب اضلاع میں اختیاری شمولیت کے ساتھ ڈبل ڈاکٹ کورٹ ریجیم کے پائلٹ منصوبے کی بھی توثیق کی ماڈل کرمنل ٹرائل کورٹس کے فریم ورک کی بھی منظوری دی گئی تاکہ طویل عرصے سے زیر التوا فوجداری مقدمات کو مقررہ مدت میں نمٹایا جا سکے اور عدالتی وسائل کو موثر انداز میں استعمال کیا جا سکے.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ہائی کورٹ
پڑھیں:
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی، وفاقی آئینی عدالت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا.عدالت نے قرار دیا ہے کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31اے میں ابہام ہے۔
جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کر دیا. وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں کہا حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا۔
اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا،قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے،قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں۔
قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے،رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی،وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4% اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا.پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔