جے یو آئی کا پی ٹی آئی سے اتحاد مشروط، علی امین گنڈاپور پر تحفظات برقرار: سینیٹر کامران مرتضیٰ
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
اسلام آباد(ممتا زنیوز)جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ساتھ مل کر چلنے یا نہ چلنے کا فیصلہ جے یو آئی کا اپنا استحقاق ہے۔
نجی ٹی وی پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے واضح کیا کہ جے یو آئی کسی حکومت کو گرانا نہیں چاہتی، تاہم پی ٹی آئی سے تعاون کے حوالے سے کچھ تحفظات موجود ہیں۔
انہوں نے خاص طور پر خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ’’ان کی زبان اور رویہ دونوں نامناسب ہیں‘‘۔
سینیٹر کامران نے کہا کہ جے یو آئی میں علی امین گنڈاپور کے لیے ناپسندیدگی پائی جاتی ہے اور اگر پی ٹی آئی انہیں ہٹا کر کسی اور کو وزیراعلیٰ بناتی ہے تو جے یو آئی اس اقدام کا خیر مقدم کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کا حالیہ بیان بھی اسی تناظر میں تھا، جس میں انہوں نے پی ٹی آئی میں اندرونی تبدیلیوں کی بات کی تھی۔ سینیٹر نے زور دیا کہ علی امین گنڈاپور کو ہٹانے یا برقرار رکھنے کا فیصلہ پی ٹی آئی کا استحقاق ہے، لیکن جے یو آئی اپنے سیاسی مؤقف میں خودمختار ہے۔
Post Views: 8.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: علی امین گنڈاپور سینیٹر کامران پی ٹی ا ئی جے یو ا ئی
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :