اربعین زائرین پر پابندی، ایم ڈبلیو ایم اور ایس یو سی کا شدید ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
اسلام ٹائمز: ایم ڈبلیو ایم کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ حکومت کا کام عوام کو تحفظ فراہم کرنا ہوتا ہے نہ کہ مذہبی عبادات پر پابندی عائد کرنا۔ علاوہ ازیں ایس یو سی کے مرکزی نائب صدر کا کہنا تھا کہ حکومت کو اپنے اس فیصلہ پر فوری نظرثانی کرنی پڑی گی، اگر فوری طور پر فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو آئندہ کا لائحہ عمل کل پیش کرینگے۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: سید عدیل عباس
ملت تشیع پاکستان کی دو نمائندہ شیعہ جماعتوں مجلس وحدت مسلمین اور شیعہ علماء کونسل نے حکومت کی جانب سے اربعین کے موقع پر زیارات کیلئے ایران اور عراق زمینی راستے سے جانے پر پابندی عائد کرنے کے فیصلہ پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ایم ڈبلیو ایم کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ حکومت کا کام عوام کو تحفظ فراہم کرنا ہوتا ہے نہ کہ مذہبی عبادات پر پابندی عائد کرنا۔ علاوہ ازیں ایس یو سی کے مرکزی نائب صدر کا کہنا تھا کہ حکومت کو اپنے اس فیصلہ پر فوری نظرثانی کرنی پڑی گی، اگر فوری طور پر فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو آئندہ کا لائحہ عمل کل پیش کرینگے۔ شیعہ ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ سید راشد رضوی نے بھی حکومت کے فیصلہ کو شیعہ دشمنی سے تعبیر کیا۔ مزید احوال اس ویڈیو رپورٹ میں ملاحظہ فرمائیں۔ قارئین و ناظرین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ (ادارہ)
https://www.
youtube.com/@ITNEWSUrduOfficial
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔